رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کاپارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب


صدر کاپارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

آئین کے آرٹیکل 56 کے مطابق ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب لازم ہوتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری پیر کی شام پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ بطور صدر یہ اُن کا تیسرا خطاب ہوگا۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔

آئین کے آرٹیکل 56 کے مطابق ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب لازم ہوتا ہے۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق یہ پارلیمان کا بیسواں مشترکہ اجلاس ہو گا جس سے خطاب کرنے والے آصف علی زرداری ملک کے چھٹے صدر ہوں گے۔

صدر نے منگل کے روز قومی اسمبلی اور سینٹ کے الگ الگ اجلاس بھی طلب کر لیے ہیں جن میں توقع ہے کہ گذشتہ جمعہ کے روز پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش کیے جانے والی اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے پر بحث ہو گی ۔

حکام کے مطابق اس ترمیم کا مقصد 1973ء کے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنا ہے اور فوجی دور حکومت میں کی جانے والی ترامیم کو ختم کرنا ہے ۔

ایک روز قبل گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی کے سلسلے میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ملک میں پائیدار جمہوریت کو یقینی بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترمیم آمریت پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے گی۔ انھوں نے کہا کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام اور پارلیمان میں اس سے پہلے کہ مجھے کہا جاتا میں نے خود ہی کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم منتقل کر دیا ہے“۔

خیال رہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 58-2(B)کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے اور مسلح افواج کے سربراہان کے تقرر کا اختیار صدر سے وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی تجویز ہے جس کے بعد اقتدار کا مرکز وزیر اعظم اور صدر کی حیثیت مملکت کے علامتی سربراہ کی ہو گی۔

XS
SM
MD
LG