رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر کے پارلیمانی وفد کا دورہ وائس اف امریکہ


وفد کے سربراہ کے بقول، ’مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ آزادی کے لئے کشمیریوں نے ایک بار پھر پرامن تحرک کا آغاز کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملنی چاہئے، تاکہ نوجوان انتہا پسندی کی جانب نہ جائیں‘

امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 9 رکنی پارلیمانی وفد نے جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کا دورہ کیا اور مسئلہ کشمیر پر اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔

وفد کی قیادت پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کے اسپیکر سردار غلام صادق خان کر رہے تھے، جبکہ وفد میں وزیر پانی و بجلی ممتاز راٹھور، وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب، وزیر خوراک جاوید اقبال بھدانوی، وزیر سیاحت عبدالسلام بٹ، وزیر اطلاعات سردار عابد حسین عابد، رکن اسمبلی ناہیب نقی، ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سلیم بٹ اور سکریٹری کشمیر اسمبلی چوہدری بشارت شامل تھے۔

اسپیکر اسمبلی سردار غلام صادق خان نے اس موقع پر بتایا کہ ’کشمیر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے خاندان تقسیم ہوکر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا اپنا آئین ہے جس کے تحت مکمل صوبائی خودمختاری حاصل ہے، جبکہ بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ بقول ان کے، ’آزادی کے لئے کشمیریوں نے ایک بار پھر پرامن تحرک کا آغاز کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر پزیرائی ملنی چاہئے، تاکہ نوجوان انتہا پسندی کی جانب نہ جائیں‘۔

دورے کے مقاصد کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ اور امریکی ایوانوں میں پیش کرنےکے لئے‘، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پارلیمنٹ کا نمائندہ وفد لے کر، وہ یہاں آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ، بقول ان کے، ’امریکہ جنوبی ایشیاء کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرانے میں مدد دے گا‘۔

اس سے پہلے وفد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اور دیگر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ ’وہ لائن آف کنڑول پر ہونے والی فائرنگ کی روک تھام اور کشمیریوں کے جان و مال کے نقصان کی تلافی کے لئے اپنا کردار ادا کریں‘۔

وفد واشنگٹن میں امریکی حکام سے بھی ملاقات کرے گا اور ان کے سامنے مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنا مؤقف پیش کرے گا۔

XS
SM
MD
LG