رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن کا فوری خاتمہ خارج از امکان


امریکہ میں حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے دوران نیشنل آرکائیو کے باہر دفتر بند ہونے کا نوٹس آویزاں ہے۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کے درمیان وفاقی فنڈنگ کے بارے میں بات چیت کا سلسلہ بدستور تعطل کا شکار ہے اور خدشہ ہے کہ امریکی حکومت نہ صرف اس تمام ہفتے کے دوران جذوی طور پر بند رہے گی بلکہ یہ بندش مزید طوالت بھی اختیار کر سکتی ہے۔

اس تنازعے کی بنیاد صدر ٹرمپ کی طرف سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کیلئے فنڈنگ منظور کرنے کا مطالبہ ہے جبکہ گزشتہ ہفتے امریکی حراست میں ایسے بچے کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ پیش آیا ہے جس کے پاس امریکہ میں رہنے کیلئے قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

یوں امریکہ نئے سال 2019 میں حکومت کی جزوی بندش کے ساتھ داخل ہو رہا ہے اور حکومت کا کام دوبارہ شروع ہونے کے سلسلے میں بات چیت کے کوئی فوری آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ منیجمنٹ اور بجٹ کے دفتر کے ڈائریکٹر مک مل وینے نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ بات کچھ ایسی ہی ہے۔ کوئی مزید بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ رک گیا ہے۔ اُنہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت کی بندش مزید کچھ عرصے جاری رہے گی۔

توقع ہے کہ شاید جمعرات کے روز اس بارے میں کچھ پیش رفت ہو جب ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائیندگان کا کنٹرول سنبھالے گی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے نئے منتخب ہونے والے کانگریس مین جو نیگیوس کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف حکومت کا کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے فوری طور پر قانون سازی کریں گے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ حکومت ذمہ دار ہو۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک پیکیج کے ذریعے متوقع طور پر مجموعی لیحاظ سے بارڈر سیکورٹی کی فنڈنگ میں اضافہ ہو گا۔ تاہم سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے سلسلے میں کوئی فنڈنگ فراہم نہیں کی جائے گی۔ درایں اثناء صدر ٹرمپ ٹویٹ کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے سرحد پر دیوار کی تعمیر کا کام مکمل کرنے کیلئے فنڈنگ منظور نہ کی تو وہ امریکہ کی جنوبی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔

تاہم ڈیموکریٹک پارٹی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین حکیم جعفریز کہتے ہیں، ’’یہ وہی صدر ہیں جو ماضی میں امریکی عوام سے یہ وعدہ کرتے رہے ہیں کہ دیوار کی تعمیر کے تمام اخراجات میکسیکو برداشت کرے گا۔ اب وہ امریکی ٹیکس دہندگان سے ایک ایسے کام کیلئے 5 ارب ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مکمل طور پر غیر مؤثر رہے گا۔ ‘‘

اس وقت جبکہ واشنگٹن میں یہ تنازعہ جاری ہے، گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والا ایک 8 سالہ تارک وطن بچہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی حراست میں فلو کے باعث انتقال کر گیا ہے۔ یہ بچہ اُن ہزاروں تاکین وطن بچوں میں سے ایک تھا جو امریکی حکومت کی طرف سے حراست میں لے لئے گئے ہیں۔ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے کمشنر کیون میک لیلن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ہر ماہ 60,000 لوگ سرحد عبور کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر ماہ 5,000 بچوں سمیت 30,000 خاندان امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ یوں 22,000 بچے ہمارے نظام کے تحت یہاں آ رہے ہیں ایک ایسا نظام جو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بالغ لوگوں کیلئے بنایا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس ہلاکت کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کو قصور وار قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ اگر سرحد پر دیوار کھڑی ہوتی تو غیر قانونی تارکین وطن سرحد پار کر کے امریکہ میں داخل ہونے کا خطرہ مول نہ لیتے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے ملک میں جاری تشدد اور انتہائی غربت کے باعث ترک وطن پر مجبور ہوئے ہیں اور سیاسی پناہ کیلئے اُن کی درخواست جائز ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG