رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں شٹ ڈاؤن جاری، صدر ٹرمپ اور کانگریس میں اختلافات برقرار


شٹ ڈاؤن کے باعث واشنگٹن کا چڑیا گھر اور عجائب گھر بھی بند ہیں

صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک ارکان کانگریس کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوئی سمجھوتا طے نہیں ہو سکا۔ امریکہ میں جزوی شٹ ڈاؤن 22 دسمبر سے جاری ہے اور صدر ٹرمپ میکیسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر دیوار کی تعمیر مکمل کرنے کے 5 ارب ڈالر کے مطالبے پر قائم ہیں۔

امریکہ کے بارڈر ایجنٹس نے منگل کے روز میکسیکو کی سرحد پر واقع شہر ٹیجوآنا میں سرحد پار کر کے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن پر آنسو گیس پھینکی۔ عین اسی وقت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے سلسلے میں 5 ارب ڈالر کی منظوری پر اصرار کر رہے تھے۔

اُنہوں نے نائب صدر مائک پینس کی جانب سے اس رقم کے نصف پر خفیہ سمجھوتا کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم 5.6 ارب ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کسی نے کہا ہے کہ ڈھائی اربڈالر لے لیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم قومی سلامتی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلکن پارٹی کے ارکان کانگریس کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے سیچوئیشن روم میں بند کمرے میں ملاقات کی۔ یہ کمرہ عام طور پر فوجی کارروائیوں اور قومی سلامتی کے دیگر حساس معاملات کے بارے میں بات کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے ارکان کانگریس کو جمعہ کے روز دوبارہ ملاقات کرنے کی دعوت دی ہے۔ امریکی ایوان نمائیندگان میں جمعرات کے روز نئے لیڈر کا انتخاب ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نینسی پلوسی سپیکر کا عہدہ سنبھالیں گی۔ نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ صدر سے اور رپبلکن پارٹی سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ نے اس سے پہلے حکومت کی بندش ختم کرنے کیلئے جو کچھ کیا ہے، آپ اسے کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ ایسا کرنے سے ہمیں سرحدی سلامتی سے متعلق بات چیت کرنے کیلئے 30 دن کا وقت مل جائے گا۔

توقع ہے کہ 3 جنوری کو ڈیموکرٹک پارٹی کی طرف سے ایوان نمائیندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایوان ایک قانون پاس کرے گا جس کی رو سے حکومت کا شٹ ڈاؤن ستمبر تک کیلئے ختم کیا جا سکے گا۔ ایک علیحدہ بل کے ذریعے ہوم لینڈ سیکورٹی کے محکمے کیلئے فروری تک کیلیے فنڈ فراہم کرنے کی بھی منظوری دے دی جائے گی۔

اگر یہ بل رپبلکن پارٹی کے کنٹرول کی حامل سینیٹ میں منظور کر بھی لیا جاتا ہے تو بھی اسے صدر ٹرمپ کی طرف سے ویٹو کرنے کا خطرہ درپیش ہو گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جتنا بھی وقت لے لے، میں اس کیلئے تیار ہوں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔

حکومت کے شٹ ڈاؤن کو شروع ہوئے دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں اور سرکاری ملازمین کی ایک بہت بڑی تعداد بدستور فرلو پر ہے اور یہ صورت حال اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ اسے ختم کرنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان کوئی سمجھوتا نہیں ہو جاتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG