رسائی کے لنکس

logo-print

اسپاٹ فکسنگ کیس: ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد


فائل فوٹو

پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے ناصر جمشید پر فکسنگ آفر بروقت نہ بتانے اور تحقیقات میں عدم تعاون کا الزام لگایا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز ناصر جمشید کے کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے۔

پی سی بی کے مطابق ناصر جمشید پر عدم تعاون کی شق پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان پر اینٹی کرپشن کوڈ کی دو شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے پیر کو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ناصر جمشید نے پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں اپنا اور ساتھی کھلاڑیوں کا رابطہ بکیز سے کرایا تھا۔

تفضل رضوی نے کہا کہ اس معاملے میں ناصر جمشید کا کردار بکیز کے سہولت کار کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی کی سزا تحقیقات میں عدم تعاون پر سنائی گئی ہے جبکہ فکسنگ کے الزام پر ان کے خلاف مزید تحقیقات ہونا ابھی باقی ہیں۔

فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ناصر جمشید کے وکیل حسن وڑائچ اپنے مؤکل کو بے گناہ قرار دیتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے موکل پر تمام الزامات بلاجواز ہیں اور انہیں پی سی بی کے ساتھ مکمل تعاون کے باوجود قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔

پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ کے اسکینڈل میں ناصر جمشید کا نام رواں سال تیرہ فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد برطانوی تحقیقاتی ادارے نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

پی سی بی نے رواں سال اپریل میں ناصر جمشید کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اگست میں ناصر جمشید نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے ناصر جمشید پر فکسنگ آفر بروقت نہ بتانے اور تحقیقات میں عدم تعاون کا الزام لگایا تھا۔

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے ناصر جمشید پانچویں کرکٹر ہیں۔ ان سے پہلے ٹربیونل محمد نواز، محمد عرفان، شرجیل خان اور خالد لطیف کو مختلف نوعیت اور مدت کی سزائیں سناچکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG