رسائی کے لنکس

logo-print

پی ڈی ایم کا ملتان میں سیاسی قوت کا مظاہرہ


ملتان میں حزب اختلاف کا سیاسی طاقت کا مظاہرہ

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور حکمرانوں کے خلاف سفر آگے بڑھے گا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا سلکیٹڈ حکومت کے ظلم و جبر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جس پر وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ کیا کوئی سابق آمر کو جیل میں رکھ سکتا ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع میں حکومت مخالف حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ملتان میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جسے حکومت نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور گزشتہ روز سے ہی شہرکے مختلف علاقوں میں کنٹینرز لگا کر اسٹیڈیم جانے والے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں تھیں۔

تاہم مقدمات، گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے قلعہ کہنہ باغ کے قریب گھنٹہ گھر چوک میں میدان سجا لیا اور ٹرک پر اسٹیج تیار کیا گیا۔

حکومت مخالف حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے کہا کہ آج عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا، اب حکومت کو جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلیکٹڈ حکومت سے عوام کو بچائیں گے۔

پیپلز پارٹی بھٹو کے مشن سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی، آصفہ بھٹو زرداری

ملتان جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرنے والی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد عوامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے لیے رکھی تھی اور وہ اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا اور اس راہ میں شہادتیں قبول کیں۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم کے ذریعے عوامی جدوجہد جاری رکھی۔

“میں ایسے وقت پر آپ کے سامنے آئی ہوں جب پارٹی چیئرمین اور میرے بھائی بلاول کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ ایم آر ڈی کی طرح پی ڈی ایم کی تحریک میں بلاول بھٹو زرداری کا ساتھ دیں گے۔ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے، اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا تو پیپلز پارٹی کی ہر عورت اپنی گرفتاری دینے اور اس عمل میں جدوجہد کے لیے تیار ہے۔

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرادری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اِس سے قبل سنہ 2018 کے عام اتخابات کی پاکستان پیپلز پارٹی کی مہم میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔

اپوزیشن اتحاد کے جلسے کی میزبان پیپلزپارٹی نے کی اور اِس جلسے کا انعقاد پیپلز پارٹی کے 54 ویں یوم تاسیس کے موقع پر کیا گیا تھا۔

لاک ڈاؤن صرف اپوزیشن کے لیے ہے، مریم نواز

آصفہ بھٹو کی تقریر سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول بھٹو کی بہن آصفہ بھٹو اپنے گھروں سے نکل کر پاکستانیوں کے حقوق کی خاطر باہر نکلیں ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ چند روز قبل اُن کی دادی کا انتقال ہوا لیکن وہ عوام کے درد کی خاطر اس جلسے میں شرکت کر رہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ عوام کا درد ان کے ذاتی درد سے زیادہ ہے۔

حکومت کی جانب سے جلسے جلوسوس کی پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کرونا وائرس کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے جلسوں پر لاک ڈاون کرنا چاہتی ہے لیکن یہ عوام عمران خان پر لاک ڈاون کرنے والی ہے۔

“ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا۔ یہ صرف نا اہل نہیں ہیں، بلکہ اِن کے دماغوں میں غلاظت ہے۔ میری ماں جب اسپتال کے آئی سی یو میں داخل تھی تو یہ پی ٹی آئی والے اُس کے کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہو گئے”۔

مریم نواز نے وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے حالیہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون وزیر نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی ماں کی لاش پاکستان پارسل کر دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف جیسا کوئی فرمانبردار بیٹا دھونڈ کر تو دکھاو۔

“میرے والد لندن میں کوئی کاونٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تو مرتی ہوئی ماں کے پاس نہ آتے”۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی چڑھانے کے بعد ان کے گھر والوں کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں جاتی اور اُنہیں جلدی دفنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

“اِسی طرح بلوچستان میں اکبر بگٹی کو قتل کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اِسی طرح پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے اور اُن کے قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کرا دیا جاتا ہے۔ جلاوطنی کے دنوں میں جب میرے دادا کا انتقال ہوا تو منتخب وزیراعظم کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی”۔

مریم نواز نے کہا کہ ایک طرف منتخب حکومتوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے اور دوسری طرف بندوقوں کے زور پر دس دس اور بیس بیس سال حکومتیں کی جاتی ہیں۔

“کیا کوئی مشرف کو ایک دن بھی جیل میں رکھ سکا؟ کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ مشرف کو پاکستان واپس لا سکے؟ عاصم سلیم باجوہ جو ایک سرکاری ملازم ہے اُس نے اربوں روپے کا کاروبار کیسے بنا لیا”۔

This image contains sensitive content which some people may find offensive or disturbing.

اسرائیل سے متعلق بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اچانک اسرائیل کی حمایت میں تحریک کیسے شروع ہو گئی۔ اِس مہم کے پیچھے کیا اسلیکٹرز اور اسلیکٹڈ بھی ایک صفحے پر ہیں۔

ہم غریب کی آواز ہیں۔ مولانا فضل الرحمنٰ

اِس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی شاہراہوں اور چوراہوں کو بند کیا گیا۔ اُن کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر تشدد کیا گیا، لیکن آخرکار ہم ہی کامیاب ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملتان میں تشدد کے خلاف جمعہ اور ہفتہ کو پورے ملک میں احتجاج ہو گا۔

“ہم آپ کی حکمرانی کو جبر کی حکمرانی کہتے ہیں اور جبر کے خلاف لڑنا ہمارے اکابر کی سنت ہے، ہم جلسہ نہیں کریں گے تو غریب کی آواز کون بنے گا، ہم پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں آئے ہیں”۔

حکومت کھوکھلے نعروں سے جانے والی نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب

پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے ملتان میں جلسے بارے وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ پی ڈی ایم راہزنوں کا ٹولہ ہے۔ اپوزیشن کا غیر فطری اتحاد صرف لوٹ مار کی دولت بچانے کیلئے ہے۔ اُنہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔

وزیراعلٰی پنجاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے تمام رکاوٹیں ہٹا کر جلسے کی اجازت دی۔ اپوزیشن کی ساری جماعتیں چند ہزار لوگ جمع کر سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ملتان کا شو بری طرح ناکام رہا اور یہ پی ڈی ایم کیلئے نوشتہ دیوار ہے۔ پی ڈی ایم کے عاقبت نااندیش عناصر پاکستان کے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ اپوزیشن سن لے کہ حکومت کھوکھلے نعروں سے جانے والی نہی، مدت پوری کریں گے۔

اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات

صوبائی حکومت نے سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ، ملازمین کو زخمی کرنے اور کرونا قواعد و ضوابط (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے ملتان میں ہونے والے جلسے سے قبل بہاولنگر میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے 37 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمنٰ۔ کوئٹہ کے جلسے میں
مولانا فضل الرحمنٰ۔ کوئٹہ کے جلسے میں

ملتان کے تھانہ لوہاری گیٹ پولیس نے اسٹیڈیم پر حملہ اور قبضہ کرنے پر 80 افراد نامزد اور 1800 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

مقدمے میں عبدالغفور حیدری، یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں، جاوید ہاشمی کے داماد زاہد بہار ہاشمی اور عبدالرحمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ملتان انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ملتان کے علاقے گھنٹہ گھر چوک پر دکانیں، کاروباری مراکز اور ملتان میٹرو بس سروس بھی بند کر دی۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بارے میں کہا ہے کہ کرونا وبا کے دور میں اُن کا مقابلہ ایسی سیاسی قیادت سے ہے، جس نے آج تک جمہوری جدوجہد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ اپوزیشن این آر او کے لیے آخری دباؤ ڈال رہی ہے جو انہیں کسی صورت نہیں ملے گا۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو کے مطابق ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث شہر کی بیشتر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جب کہ شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے کو روکنے کے لیے مختلف اضلاع سے پنجاب پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا جب کہ کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں منگوا لی گئی ہیں۔

مسلم (ن) لیگ کا مؤقف

ملتان روانگی سے قبل لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ملک میں تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے جلسے ہو رہے ہیں، وہاں کرونا نہیں پھیل رہا، کیا سارے ایس او پیز اپوزیشن کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 تو چلا ہی جائے گا، لیکن کووڈ 18 کو نکالنا ضروری ہے، اس حکومت کو اپنا گھر جاتا نظر آ رہا ہے۔ اب اس حکومت کے آخری چند دن ہیں۔

پنجاب حکومت کا ردِ عمل

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ ملتان کے عوام اس تھکی ہاری اپوزیشن کو آخری جھٹکا ضرور دیں گے۔ طاقت کا اظہار عوام نے ووٹ کی پرچی سے کر دیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 300 افراد کے اجتماع پر پابندی نہیں ہے۔ جب ایس او پیز کے خلاف کوئی اجتماع ہو گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی ہٹ دھرمی سے عوام کو بچانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔۔ اپوزیشن ساری دکان داری سینیٹ الیکشنز کو روکنے کے لیے لگا رہی ہے۔ اپوزیشن جو مرضی منفی ہتھکنڈے استعمال کرے سینیٹ الیکشن وقت پر ہو گا۔

متحدہ اپوزیشن کے جلسے

اپوزیشن اتحاد نے اپنے جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ سے کیا تھا۔ جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں، 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں اور رواں ماہ پشاور میں جلسہ کیا تھا۔

پی ڈی ایم میں شامل گیارہ جماعتیں اتحاد اپنے شیڈول کے مطابق آئندہ ماہ 13 دسمر کو لاہور میں جلسہ کریں گی۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی کے باعث ہر قسم کے جلسے اور جلوسوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG