رسائی کے لنکس

logo-print

'متنازع ریمارکس' پر عامر لیاقت حسین پر پابندی


عامر لیاقت حسین۔ فائل فوٹو

پاکیستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے 'پیمرا' نے نجی ٹی وی چینل 'بول' کے میزبان عامر لیاقت حسین پر تیس دن کی پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ٹی وی چینل پر آن ایئر نہیں آئیں گے۔

پیمرا کی طرف سے جاری نوٹیفیکش میں اس پابندی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ جمعرات کو عامر لیاقت حسین نے 'عالم کے بول' نامی سیگمنٹ میں متنازع ریمارکس دیے تھے۔

"پروگرام میں بھارتی ریاست گجرات سے ایک وڈیو کال لی گئی جس میں [مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ] حضرت علی کی خلافت سے متعلق سوال کیا گیا اور یہ مواد بغیر کسی تاخیر کے براہ راست نشر کیا گیا۔ اس موقع پر میزبان نے دانستہ طور پر ایسے جملے ادا کیے جس سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔"

پیمرا کا مزید کہنا تھا کہ میزبان عامر لیاقت نے "ریٹنگ" کے حصول کے لیے "غیرضروری ڈرامے کے ساتھ مذہب کا استعمال کیا جس سے مختلف فرقوں اور عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔"

عامر لیاقت حسین پر اس سے قبل بھی متعدد بار مختلف متنازع بیانات کے باعث پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

اس پروگرام میں عامر لیاقت حسین کے ایک مہمان عالم دین قاری خلیل الرحمٰن کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور اس کے بعد میزبان آن ایئر ہی یہ شو چھوڑ کر چلے گئے اور وہاں موجود دیگر مکتبہ فکر کے علما کے درمیان بھی سخت جملے بازی ہوئی۔

پیمرا نے اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بول چینل کو پروگرامز 'رمضان کے بول' اور 'ایسا نہیں چلے گا' کو نشر کرنے اور اس کے نشر مکرر پر بھی پابندی عائد کر دی۔

عامر لیاقت حسین اس سے قبل مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی کر چکے ہیں اور کچھ عرصہ قبل انھوں نے بول ٹی وی کو بھی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

حال ہی میں انھوں نے سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG