رسائی کے لنکس

میڈیا کو عدلیہ اور فوج سے متعلق متنازع بیانات نشر نہ کرنے کی ہدایت


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پیمرا کے ٹوئٹیر پر جاری ہونے والے ایک بیان کہاگیا کہ بعض ٹی وی چینلز پر اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا نام لے کر ان پر تنقید کی گئی۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے (پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو ایسے ٹاک شوز اور نیوز کانفرنسز براہ راست نشر نا کرنے کی ہدایت کی ہے جن میں اعلیٰ عدلیہ اور فوج کے خلاف غیر مناسب اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی جائے۔

پیمرا کے ٹوئٹیر پر جاری ہونے والے ایک بیان کہاگیا کہ بعض ٹی وی چینلز پر اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا نام لے کر ان پر تنقید کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ بھی اس معاملے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ٹی وی چینلز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کر چکی ہے۔ تاہم پیمرا کے مطابق اس کے باوجود بعض ٹی وی چینلز اس ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے عدلیہ اور فوج سے متعلق متنازع بیانات کو نشر کرتے رہے۔

پیمرا نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر زور دیا ہے کہ براہ راست نشریات کے دوران نفرت انگیز اور متنازع بیانات اور تقریروں کو نشر ہونے سے روکنے کے لیے ہر چینل ایک سینیئر مدیروں پر مشتمل نگران کمیٹی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست نشر ہونے والے پروگرام کو تھوڑے وقفے سے نشر کرنے کا طریقہ کار بھی اختیار کریں۔

پیمرانے تمام ٹی وی چینلز کے لیے الیکڑانک میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق کی پابندی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس امر کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مؤقر غیر سرکاری تنظیم 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کے چیئرمین اور ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ وہ ایک عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ نیوز چینلز میں تجربہ کار ایڈیٹر کے کردار کو مضبوط بنانے سے ایسے معاملات سے موثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ" ٹی وی چینلز بہت زیادہ ہو گئے ان میں نیوز چینل بھی ہیں اور انٹرٹینمینٹ کے چینلز ملا کر سو سے اوپر ہیں ان میں ادارتی جانچ پڑتال کا مؤثر نظام نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ " میں بہت دفعہ کہہ چکا ہو اور لکھ بھی چکا ہوں کہ ایسے نظام کو وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کو کوئی کارروائی نا کرنی پڑے لیکن اگر اس طرح کی صورت حال جاری رہے گی تو حکومت یا سپریم کورٹ کارروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گی جو آزادی اظہار کے حق کے خلاف ہو گا۔"

مہدی حسن نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے لیکن اس کا ذمہ داری سے استعمال ضروری ہے ۔ ان کے بقول مناسب انداز میں اداروں اور نظام پر تنقید کو یقینی بنانے کے لیے ٹی وی چنیلز کو بھی ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد نواز شریف اور حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کی طرف سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدلیہ کے بعض ججوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور بعض اوقات فوج کا نام لیے بغیر اس پر تنقید کی جاتی رہے ہی۔

اگرچہ سپریم کورٹ حکمران جماعت کے متعدد رہنماؤں کو مبینہ عدلیہ مخالف بیانات پر نوٹس بھی جاری کر چکی ہے تاہم اس کے باوجود ٹی وی چینلز پر ایسے بیانات نشر ہونے سے روکنا پیمرا کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG