رسائی کے لنکس

logo-print

نئی قیادت میں، امریکہ اپنا کھویا مقام حاصل کرلے گا: پینس


انڈیانا کے گورنر مائیک پینس، جو ایک نامور ’کنزرویٹو‘ ہیں اور جنھیں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا نائب صدر نامزد کیا ہے، بدھ کے روز اپنا کیس پیش کریں گے، آیا اُنھیں آئندہ امریکی رہنماؤں کے طور پر کیوں منتخب کیا جانا چاہیئے۔

ایک طویل مدت سے، پینس اِس وسط مغربی امریکی ریاست سے رُکنِ کانگریس منتخب ہوتے آرہے ہیں اور بعد میں وہ اُس کے انتظامی سربراہ بنے، وہ اس ہفتے اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں جاری ری پبلیکن قومی کنوینشن کے دوران مباحثے میں ٹرمپ کو اُس ورثے کا مالک قرار دے رہے ہیں جو پارٹی کی محبوب ہستی، رونالڈ ریگن سے منسوب ہے، جنھوں نے 1980ء کی دہائی میں دوبار امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا۔

چار روزہ کنوینشن کے تیسرے روز، 57 برس کے پینس کا خطاب شہ سرخی بن سکتا ہے؛ جس سے ایک ہی روز قبل کنویشن کے ڈیلیگیٹس نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کیا، جو ہیلری کلنٹن کے مدِ مقابل انتخاب لڑیں گے، جو سابق امریکی وزیر خارجہ رہ چکی ہیں، جنھیں ابھی باضابطہ طور پر نومبر کے قومی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد نہیں کیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ پینس ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر ہونے والے اپنے خطاب میں بتائیں گے کہ ’’ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ترقی اور مواقع کے لحاظ سے امریکہ ایک بار پھر روشن مینار بن کر ابھرے گا، جب کہ کئی برسوں کی غلط پالیسیوں اور بیکار قیادت کے نتیجے میں دنیا میں ہماری حیثیت کمزور ہو کر رہ گئی ہے‘‘۔

سیاسی میدان میں ٹرمپ نوآزمود ہیں، جو جائیداد کے مانے ہوئے ارب پتی کاروباری شخص ہیں۔ وہ سنہ 1950 کی دہائی کے بعد ری پبلیکن یا ڈیموکریٹک پارٹی کے پہلے اہم صدارتی امیدوار ہیں جو پہلے کبھی کسی منتخب عہدے پر فائز نہیں رہے۔ اُنھوں نے اپنے مدِ مقابل 16 امیدواروں کو مات دی، جو یا تو موجودہ یا سابق سینیٹر یا گورنر ہیں، جب کہ سال بھر جاری رہنے والی یہ انتخابی مہم اکثر تلخ رہی، آخر کار نامزدگی لینے میں کامیاب ہوئے، جب کہ ٹرمپ اپنے حریفوں کو بگڑے ہوئے ناموں سے پکارتے رہے۔

پینس سے پہلے، بدھ کے روز وڈیو لنک پر ٹرمپ کے تین مزید حریف بھی کنوینش سے خطاب کریں گے، اُن میں ونکونسن کے گورنر اسکاٹ واکر؛ ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز اور فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو شامل ہیں۔
امریکی سیاسی تجزیہ کار خاص طور پر کروز کے خطاب کے منتظر ہیں۔ وہ کنزرویٹو ہیں اور جھگڑالو خیال کیے جاتے ہیں۔ ایک وقت کروز ٹرمپ کے قریبی چیلنجر تھے، جس کے بعد کسی وقت ٹیلی ویژن ریلٹی شو کے میزبان رہنے والے ٹرمپ نے مئی میں مدمقابل امیدواروں سے سبقت حاصل کر لی تھی۔ اُن کا کانٹے کا مقابلہ ہوا جس میں ایک دوسرے کے خلاف متنازع جملے کسے گئے۔

XS
SM
MD
LG