رسائی کے لنکس

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے اختتام ہفتہ جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 36 ہزار سے تجاوز کر گئی اور گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران ان میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2009ء میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 18,359 تھی جو اب 36,344 ہو گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 7 اگست سے 12 اگست کے دوران عدالت عظمیٰ میں 255 نئے مقدمات دائر کیے گئے ہیں جبکہ کہ اس دوران 126 مقدمات نمٹائے گئے۔

معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ کہتے ہیں کہ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں ججوں کی تعداد کم ہونا اور فریقین کے وکلاء کی طرف سے التوا کی بے جا طور پر درخواست کرنا بھی شامل ہے جس کی وجہ سے مقدمات بروقت نمٹائے نہیں جا سکتے ہیں ۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بے بنیاد مقدمات دائر کرنے والے کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔

" فوجداری مقدمے کی جب کوئی جج سماعت کررہا ہے تو یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ مقدمہ جھوٹا تو نہیں ہے اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو اس کا کوئی مداوا ہونا چاہیے اور متاثرہ فریق کے لیے ایسا مقدمہ کرنے والے فریق پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے اور اگر سول مقدمہ میں جو فریق التوا کا ذمہ دار ہے اس پر بھی جرمانہ عائد کرنے کی ضرورت ہے۔"

کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کر کے زیر التوا مقدمات کے معاملے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

"گو کہ سپریم کورٹ کی ججوں کی تعداد 17 ہے لیکن میرے خیال میں اس وقت سپریم کورٹ میں 16 جج ہیں اور ایک جج کی پوسٹ خالی ہے ۔۔ایک مسئلہ جو میرے خیال میں یہ ہے کہ اچھے جج بننے کے اہل افراد ان کو نہیں مل رہے ہیں جو سپریم کورٹ کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ "

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت عظمیٰ کے علاوہ ملک کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔

حکومت نے رواں سال مارچ میں ماتحت عالتوں میں مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیےتنازعات کے متبادل تصفیے کا قانون وضع کیا تھا جس کا مقصد ملک کی عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے علاوہ سول یا معمولی تنازعات سے متعلق معاملات کو جلد حل کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG