رسائی کے لنکس

پینٹاگون نے داعش کے 'مفتی اعظم' کی ہلاکت کی تصدیق کر دی


فائل فوٹو

امریکہ کے محکمہ دفاع نے گزشتہ ماہ ہونے والی ایک فضائی کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم داعش کے نام نہاد "مفتی اعظم" کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے منگل کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ داعش کے مذہبی راہنما ترکی البنعالی 31 مئی کو شام کے شہر میادین میں ہونے والی ایک فضائی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی جنگجوؤں کو داعش میں بھرتی کرنے کے لیے الیینالی کا کردار نہایت اہم تھا اور وہ داعش کے رہنما ابو بکر بغدادی کے ایک قریبی ساتھی تھے۔

ڈیوس نے کہا کہ "انہوں نے قتل اور دیگر مظالم کا ارتکاب کرنے کے لیے پروپیگنڈا فراہم کیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "(جنگجوؤں) کو بھرتی کرنے کی ان کی کوششوں میں ان کی کئی ریکارڈ شدہ تقاریر بھی شامل تھیں جن کے ذریعے معصوم لوگوں کے قتل کی حوصلہ افزائی اور جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔"

رپورٹس کے مطابق البنعالی نے عراق میں یزیدی براداری کی سینکڑوں خواتین کو غلام بنانے کا مذہبی جواز بھی فراہم کیا۔

منگل کو البعنالی کی ہلاکت کی تصدیق سامنے آنے کے بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ البنعالی شام کے شہر دیرالزور میں ایک فضائی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تاہم ان کے بعض حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے گڑھ رقہ میں مارے گئے۔

ان کی ہلاکت کو داعش کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جسے عراق اور شام میں حملوں کا سامنے ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شام کے شہر رقہ اور عراقی شہر موصل میں داعش کے خلاف ہونے والے حملوں کے بعد اس گروپ کے رہنما میادین سے فرار ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG