رسائی کے لنکس

logo-print

انسداد دہشت گردی میں پاکستانی قربانیوں کا اعتراف


قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مصروف عمل پاکستانی فوجی۔ فائل فوٹو

امریکہ کے محکمہ دفاع نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ خود پاکستان کے مفاد ہے۔

پینٹاگان کی ترجمان ڈانا ڈبلیو وائٹ نے پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیردفاع جم میٹس کے حالیہ دورہ پاکستان سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستانی عہدیداوں سے نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔

"جیسا کہ میٹس نے کہا تھا کہ کسی نے بھی پاکستانیوں سے زیادہ جانیں نہیں گنوائیں، لہذا پھر وہی بات آ جاتی ہے کہ ہم تعلقات کو وسعت دیں اور مواقع کو دیکھیں۔"

وائٹ کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک مواقع موجود ہیں۔

جب ترجمان سے ان مواقع اور اشتراک کی وضاحت کرنے کا کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ "دہشت گردی کا خطرہ جو کہ ہر کسی کے لیے ہے۔۔۔یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ دہشتگردی ختم کر دی گئی ہے۔ لہذا ہم اس بابت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی راہ تلاش کریں گے اور آگے بڑھیں گے۔"

امریکی وزیردفاع جم میٹس پیر کو ایک روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے جہاں انھوں نے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں دہشت گردوں کے خلاف کوششوں کو بڑھانے پر زور دیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع میٹس کی جنرل باجوہ سے ملاقات
امریکی وزیر دفاع میٹس کی جنرل باجوہ سے ملاقات

پاکستان کی یقین دہانیوں کے باوجود امریکہ یہ زور دیتا آ رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں خاص طور پر دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔

اس ملاقات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک انسداد دہشت گردی کے عزم پر قائم ہے جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے میٹس کو بتایا کہ پاکستان کو امریکہ سے اعتماد کے علاوہ کچھ درکار نہیں۔

ان کے بقول پاکستان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر انسداد دہشت گردی کی جنگ میں کردار ادا کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG