رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی محکمہ دفاع خفیہ دستاویزات کے افشا کی تحقیقات کرائے گا


دستاویزات افشا ہونے کا معاملہ امریکی افواج کے لیے میدانِ جنگ میں، اور ساتھ ہی ساتھ امریکی اتحادیوں اور افغان حلیفوں کے لیے ممکنہ خطرناک نتائج برآمد کر سکتا ہے، اور علاقے میں امریکی تعلقات اور وقار کو دھچکا پہنچا سکتا ہے: رابرٹ گیٹس

امریکی محکمہ دفاع نے جمعرات کو کہا کہ افغان جنگ سے متعلق خفیہ فوجی دستاویزات افشا ہونے سے جانیں ضائع ہونےاور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور خبردار کیا کہ‘ وِکی لیکس’ کےناشر خون کی ہولی کھیلنے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دستاویزات افشا ہونے کا معاملہ امریکی افواج کے لیے میدانِ جنگ میں، اور ساتھ ہی ساتھ امریکی اتحادیوں اور افغان حلیفوں کے لیے ممکنہ خطرناک نتائج برآمد کر سکتا ہے، اور علاقے میں امریکی تعلقات اور وقار کو دھچکا پہنچا سکتا ہے۔

گیٹس نے نوے ہزار سےزائد خفیہ دستاویزات کو ‘نامکمل معلومات کا پہاڑ’ قرار دیا، جِس سے افغانستان میں امریکی پالسیت پر روشنی نہیں پڑتی۔ تاہم اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ مواد میدانِ جنگ میں دشمن کی اعانت کے مترادف ہوگا۔

اُنھوں نےکہا کہ ایف بی آئی کو فوجداری چھان بین میں مدد دینے کے لیے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔

جوائنٹ چیفز آف اسٹاف کے چیرمین ایڈمرل مائیک ملن نے وِکی لیکس کے بانی، جولیان آسانگے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آسانگے اور اُن کے ذرائع پہلے ہی کسی نوجوان فوجی یا کسی ایک افغان خاندان کے قتل کے مرتکب ہو چکے ہوں۔

اتوار کو خفیہ دستاویزات کے افشا ہونے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کا اجلاس طلب کیا۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تقریباً 22سویلین اور فوجی عہدےد ار شامل تھے جو یا تو ذاتی طور پر موجود تھے یا پھر وِڈیو لنک کے ذریعے رابطے میں تھے۔

اِن میں وزیرِٕ خارجہ ہلری کلنٹن، وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس، ڈائرکٹرسی آئی اے لیون پناٹا، اور قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز کے علاوہ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے نئے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے بتایا کہ زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں حالیہ دِنوں میں وزیر خارجہ کلنٹن کی طرف سےپاکستان میں ہونے والا اسٹریٹجک مذاکرات، اور پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کی اعانت میں کی جانے والی امریکی کوششوں کا معاملہ شامل تھا۔

اجلاس میں جِن باتوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی اُن میں، اوباما انتظامیہ کے بقول، حالیہ دِنوں میں افغانستان کےمستقبل پر ہونے والی کامیاب کابل کانفرنس اور افغانستان میں حکومتی عملداری کے فروغ کے اقدامات اور طالبان کو دوبارہ معاشرے میں ضم کرنا شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG