رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں سائیکلوں کی فروخت کئی گنا بڑھ گئی


کرونا وائرس بحران کے دوران امریکہ میں جن اشیا کی طلب سب سے زیادہ بڑھی ہے، ان میں سائیکل بھی شامل ہے۔ سواری کا یہ سادہ ذریعہ منجمد کاروبار زندگی کو متحرک کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

نیویارک کی بروکلین سائیکل کمپنی نے اس سال چھ گنا زیادہ سائیکلیں فروخت کی ہیں۔ فینکس میں دکانوں کی ایک چین پر تین گنا زیادہ سائیکلیں فروخت ہو رہی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں نصف صدی سے قائم دکان اپریل کے آخر تک اپنی تمام سائیکلیں فروخت کرچکی تھی اور اسے مستقبل کے اتنے آرڈر مل چکے ہیں جتنے اسے گزشتہ پچاس سال میں نہیں ملے۔

نیویارک ٹائمز نے مارکیٹ ریسرچ کمپنی (این پی ڈی) گروپ کے حوالے سے کہا ہے کہ مارچ میں امریکہ بھر میں سائیکلوں اور ان کے پرزوں کی فروخت ایک سال پہلے کے مقابلے میں دوگنا رہی۔ اس ماہ فٹنس بائیکس 66 فیصد، لیژر بائیکس 121 فیصد، بچوں کی سائیکلیں 59 فیصد اور الیکٹرک بائیکس 85 فیصد زیادہ بکیں۔

اپریل کے اختتام تک بیشتر دکانوں اور تقسیم کاروں کے پاس کم قیمت کا مال ختم ہو چکا تھا۔ اس وقت امریکہ کو نئی سائیکلوں کی کمی کا سامنا ہے، کیونکہ بیرون ملک سے سائیکلوں کے آرڈر آنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔

امریکہ میں فروخت کی جانے والی بہت سی سائیکلیں ایشیا سے بن کر آتی ہیں۔ لیکن 2018 سے ان کی درآمد کم ہوئی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے چین کی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کردیا تھا اور سائیکلوں کے بہت سے پرزے وہیں بنتے ہیں۔ 2019 میں سائیکلوں کی درآمد میں 25 فیصد اور اس سال 30 فیصد کمی آئی ہے۔

امریکہ میں سائیکلوں کی دکانیں جو آرڈر بک کرچکی ہیں، وہ جون اور جولائی میں پورے کیے جا سکیں گے۔ ہزار ڈالر سے کم کی سائیکل کے لیے اگست تک کا انتظار بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ جو لوگ انتظار نہیں کرنا چاہتے وہ انٹرنیٹ پر استعمال شدہ سائیکلیں خرید رہے ہیں۔

امریکہ میں عام نئی سائیکل 400 سے 700 ڈالر میں مل جاتی ہے۔ لیکن لیژر بائیکس اور ماؤنٹین رائیڈ کی سائیکلوں کی قیمت ہزاروں ڈالر تک پہنچتی ہے۔

سائیکلوں کی طلب میں اضافے کی وجہ کاروبار کی بندش اور گھر پر رہنے کی ہدایات ہیں۔ جم بند ہیں۔ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سائیکل سواری سفر کا محفوظ، کم خرچ اور صحت بخش ذریعہ ہے۔ ماہرین اور ٹرانسپورٹ حکام کو توقع ہے کہ بحران ختم اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد بھی سائیکل سواری کا رجحان برقرار رہے گا۔

اپریل میں نیویارک کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ وہ 100 میل کی سڑکیں صرف پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے کھول رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان سڑکوں کو ٹریفک کے لیے مستقل طور پر بند کردیا جائے۔ اوکلینڈ اپنی 10 فیصد سڑکوں کو کاروں کے لیے بند کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ سیاٹل اپنی 20 میل کی سڑکوں کو مستقل طور پر بند کرے گا۔

یورپ کی نسبت امریکی معاشرے میں سائیکل سواری کا رجحان کم ہے۔ نیویارک میں ایک فیصد سے کم آبادی سائیکل چلاتی ہے۔ امریکہ کے جس شہر میں سب سے زیادہ سائیکل چلائی جاتی ہے، اس کا نام پورٹ لینڈ ہے۔ لیکن وہاں بھی صرف چھ فیصد لوگ سائیکل سواری کرتے ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں دفتر اور اسکول جانے والی نصف آبادی سائیکل استعمال کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG