رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف غداری کیس فیصلہ، سوشل میڈیا پر پیرا 66 چھایا رہا


سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سپیشل کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں اگرچہ پرویز مشرف کے خلاف سزا دینے کے فیصلے کی تفصیلی وجوہات دی گئی ہیں مگر آج پاکستان میں سوشل میڈیا پر تفصیلی فیصلے کا پیرا 66 توجہ کا مرکز بنا رہا۔

اس پیرا میں فاضل جج جسٹس وقار سیٹھ نے لکھا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مفرور مجرم کو سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اگر مشرف وفات جائیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک پر پھانسی دی جائے۔

اس تجویز نے فیصلے کی دیگر تفصیلات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور بحث مکمل طور پر اس نقطے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے نتیجے میں ایسے لوگ جج بن گئے ہیں جن کی اہلیت اور علم پر سنجیدہ سوالات ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ آگ سے کھیلنے کے شوقین حضرات کو علم نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں۔

گورنر سندھ عمران اسمعیل نے لکھا کہ فیصلوں سے انصاف کی خوشبو آنی چاہئے نہ کہ ذاتیات کی بدبو۔

سینئیر صحافی کامران خان نے لکھا کہ "اس غیر قانونی غیر انسانی فیصلے اور لکھنے والے کو تاریخ روند دے گی۔"

صحافی زیب النسا برکی کا کہنا تھا کہ یہ الفاظ ’اون گول‘ کے مطابق ہیں۔ ان الفاظ کی وجہ سے وہ مثال جو اس فیصلے سے قائم ہو رہی تھی، سارا مکالمہ اس سے دور چلا گیا ہے۔

سماجی علوم کی ماہر ندا کرمانی نے لکھا کہ اصل معاملہ فوج کی جانب سے جمہوری عمل میں مداخلت کا تھا۔ جسٹس سیٹھ کے الفاظ اس معاملے سے توجہ ہٹانے کا باعث بن گئے ہیں۔

آج ٹویٹر پر پرویز مشرف کے کیس کے علاوہ برطانوی تاریخ کے نامور فوجی رہنما اور سیاستدان اولیور کرامویل کا نام بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔

سینئیر صحافی محمد ضیاالدین نے لکھا کہ پیرا 66 سے مجھے 17ویں صدی کے برطانوی فوجی، جو بعد میں سیاستدان بن گئے ان کا انجام یاد آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف نے جب مارشل لا لگایا تو اولیور کرامویل کا ذکر کیا تھا۔

سینئیر کورٹ رپورٹر اے وحید مراد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال جب مارچ میں پرویز مشرف کیس کی ایک اپیل سپریم کورٹ میں آئی تو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اولیور کرام ویل کا ذکر کیا تھا کہ ان کی لاش کی باقیات کو نکال کر پھانسی دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیرا 66 میں دی گئی تجویز کی وجوہات جج صاحب نے اپنے فیصلے کے پیرا 67 میں دی کہ ملزم چونکہ موجود نہیں ہے اس لیے انہیں یہ سزا دی جا رہی ہے۔

وحید مراد نے کہا کہ ملک کے قانونی حلقے یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ پیراگراف نہیں لکھنا چاہئے تھا۔ اس پیرا کی وجہ سے فیصلے کے دیگر اجزا سے توجہ ہٹ گئی ہے۔

سینئیر صحافی حامد میر نے لکھا کہ پیرا 66 اتنا اہم نہیں ہے۔ یہ ایک جج کی رائے ہے۔ دوسرے جج صاحب نے اس سے اختلاف کیا ہے۔

سوشل میڈیا صارف محسن حجازی نے لکھا کہ اس فیصلے پر آج وہ بھی دہائیاں دے رہے ہیں جو اسلامی صدارتی نظام کے فوری نفاذ کے ساتھ ہی "ملک دشمن کرپٹ" صحافیوں، سماجی و سیاسی کارکنوں کی "سرعام چوک میں اجتماعی پھانسی" کا روزانہ سال کے تین سو پینسٹھ دن مطالبہ کرتے ہیں۔ طبیعت میں یہ نرم خوئی خوش آئند ہے۔

XS
SM
MD
LG