رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: افغان مارکیٹ کی ملکیت پر تنازعہ، مارکیٹ پر افغان پرچم دوبارہ نصب


پشاور کی افغان مارکیٹ میں افغان سفیر شکراللہ عاطف افغان پرچم لہرا رہے ہیں۔ (10 اکتوبر 2019)

صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور کے جناح پارک کے بالمقابل تاریخی افغان مارکیٹ کی ملکیت پر حکومت اور مقامی شہری کے درمیان تنازعے نے شدت اختیار کر لی ہے۔

8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب ضلعی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کے تحت پولیس نفری کے مدد سے نہ صرف افغان تجارتی مرکز کا قبضہ واگزار کرایا بلکہ کاروائی کے دوران عمارت پر لگے ہوئے افغانستان کے جھنڈے کو بھی اتار کر پاکستان کا قومی جھنڈا لگوا دیا تھا۔

کاروائی کے دوران بعض دکانوں اور دفاتر کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ جب کہ قبضہ واگزار کرنے کے لیے مارکیٹ کے دکانداروں اور کرائے داروں کی تنظیم کے صدر خان سید گلزار مہمند کے علاوہ کئی دیگر عہدیداروں اور کرایہ داروں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم کاروائی کے بعدحراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر دیا گیا۔

افغان حکومت کا ردعمل
بدھ کے روز پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر شکر اللہ عاطف مشعل نے سفارتی عہدیداروں اور پشاور میں افغان کونسل جنرل محمد ہاشم نیازی کے ہمراہ آ کر نہ صرف افغان تجارتی مرکز کا قبضہ واپس لیا۔ بلکہ اس عمارت پر افغانستان کا پرچم بھی دوبارہ لہرایا۔

اس موقع پر ذرائع ابلاع کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شکر اللہ عاطف مشعل نے کہا کہ یہ جائیداد قیام پاکستان کے پہلے سے افغان حکومت کی ملکیت ہے اور افغان حکومت کے پاس اس کی ملکیت کی دستاویزات اور ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کس طرح کوئی شخص افغانستان کی سرکاری جائیداد پر قبضہ کر سکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت پاکستانی عدالتوں کا احترام کرتی ہے۔ مگر اس فیصلے پر انہیں تحفظات ہیں۔

اس موقع پر سفیر نے افغانستان کے قومی پر چم کو اتارنے کے اقدام پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سفارتی آداب کے خلاف ہے۔

پشاور کی افغان مارکیٹ میں افغان پرچم نصب کیا جا رہا ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:35 0:00

تاریخی پس منظر
قیام پاکستان سے 1971 تک کسی بھی شخص نے پشاور شہر اور نواحی علاقوں میں افغانستان کی جائیدادوں اور املاک پر دعویٰ دائر نہیں کیا تھا اور افغان مارکیٹ کے دکاندار اور کرایہ دار باقاعدگی سے پشاور میں تعنیات افغان سفارتی عملے کو کرایہ ادا کرتے تھے۔

1971 میں سید زوار حسین نامی ایک شحص نے افغان مارکیٹ پر دعویٰ کرتے ہوئے مقامی عہدیداروں اور عدالتوں سے اس کا قبضہ لینے کے لیے رجوع کیا۔ تاہم ابھی تک کسی بھی کرایہ دار یا دکاندار نے سید زوار حسین کو دیکھا ہے اور نہ ان کے ساتھ کوئی ملاقات کی ہے۔

1989 میں جب افغانستان میں سابق سویت یونین کے خلاف دسمبر 1979 میں شروع ہونے والی جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوئی۔ تو افغان حکومت کا مرکزی نظام بہت کمزور پڑ گیا۔ اس دوران پشاور میں افغان مارکیٹ کو 1958 میں نافذ کیے جانے والے قانون کے تحت شوکت جمال کشمیری نامی شخص کو الاٹ کر دیا گیا۔

اس قانوں کا اطلاق متروک جائیدادوں پر ہوتا تھا۔ جسے مہاجرین کو الاٹ کر دیا جاتا تھا۔

الاٹمنٹ کے خلاف افغان حکومت نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ مگر اس کا دعویٰ خارج ہو گیا۔ وہاں سے کیس سپریم کورٹ پہنچا۔ لیکن سپرم کورٹ نے بھی پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

افغان حکومت کا مؤقف
افغان سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ سولہ کنال سے زائد اس جائیداد کو 1946 میں افغانستان نے برطانوی حکومت سے خریدا تھا۔ جبکہ مزید لگ بھگ 5 کنال رقبہ 1947 میں پاکستان حکومت سے خریدا گیا تھا۔

اس عمارت میں 1997-98 سے قبل افغان ٹریڈ کمشنر کا دفتر بھی تھا۔ جسے بعد میں تاریخی قصہ خوانی بازار کی افغان بلڈنگ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس تجارتی مارکیٹ میں لگ بھگ تین سو دکانیں اور دفاتر ہیں اور زیادہ تر کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلی کئی دہائیوں سے ماہانہ کرایہ افغان حکومت کو ہی ادا کرتے ہیں۔

افغان مارکیٹ کے کرایہ داروں اور دکانداروں کی تنظیم کے صدر خان سید گلزار مہمند کہتے ہیں کہ یہ جائیداد افغانستان کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کی دستاویزات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی دیگر کئی جائیدادیں بھی پشاور میں موجود ہیں۔ جن میں مال روڈ پر واقع 19 ویں صدی کی امیر عبدالرحمن خان کے دور حکومت کی عمارت بھی موجود ہے۔

اسی طرح افغان بادشاہ غازی امان اللہ خان کے دور میں پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازارمیں ایک تین منزلہ افغان عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ جس کا قبضہ اب بھی افغان حکومت کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ بازار کے وسط میں ایک پرانی مسجد اور ملحقہ قبرستان اب بھی افغانستان کے مشہور مذہبی مجددی خاندان کی ملکیت ہے۔

افغانستان کے مرحوم صدر پروفیسر صبحت اللہ مجددی کے والد اور دیگر بزرگوں کی قبریں بھی اس قبرستان میں ہیں۔

پشاور کے باہر ہزار خوانی کے قبرستان میں جو رحمان بابا کے قبرستان کے نام سے مشہور ہیں۔ اہم افغان رہنماؤں کی قبریں موجود ہیں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ برطانوی دور حکومت میں افغان باشندوں کے پشاور یا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG