رسائی کے لنکس

logo-print

فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد مشتبہ افراد کی گرفتاریاں جاری


بڈھ بیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ہلاک ہونے والے فوج کے کپیٹن اسفندیار اور ائیر فورس کے اہلکاروں کی تدفین ہفتے کو اُن کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی۔

پشاور میں پاکستان کی حساس عسکری تنصیب پر طالبان دہشت گردوں کے منظم حملے کے بعد مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پشاور کے قریبی ضلع کوہاٹ میں پولیس نے 55 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی افراد کو پشاور حملے میں ملوث شدت پسندوں کی معاونت کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے لیکن باضابطہ طور پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اُدھر بڈھ بیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ہلاک ہونے والے فوج کے کپیٹن اسفندیار اور ائیر فورس کے اہلکاروں کی تدفین ہفتے کو اُن کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی۔

حملے کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اڈے پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور وہیں سے اس معاملے کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

میجر جنرل عاصم باجوہ کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی افغانستان میں اپنے معاونت کاروں سے رابطے کے دوران ہونے والی گفتگو کے سننے کے بعد ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔

پاکستان وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو میں افغانستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشت گرد پڑوسی ملک میں منظم ہو کر حملہ آور ہوتے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پشاور میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد پاکستان افغانستان سے اس مطالبے کو دہرائے گا کہ کابل حکومت اپنی جانب چھپے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے۔

لیکن سرکاری طور پر اس بارے میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا کہ کب یا کیسے اس معاملے کو کابل حکومت کے سامنے اُٹھایا جائے گا۔

پاکستان کی طرف سے پہلے بھی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ اور کئی دیگر دہشت گرد کمانڈر اپنے جنگجوؤں کے ساتھ سرحد پار افغانستان میں روپوش ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد بھی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے کابل کا دورہ کیا تھا اور افغان حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہی کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے حملوں کے بعد افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی تھی کہ دہشت دوں کی پناہ گاہیں اب یہاں موجود ہیں جہاں سے افغان سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔

رواں سال مئی میں پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ اور افغانستان کے خفیہ ادارے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘ کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے گئے۔

اس یاداشت پر دستخط کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک کے انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں سے متعلق خفیہ معلومات کے تبادلے کے علاوہ اپنی اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف مربوط کارروائیوں کے لیے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن عملی طور پر اس بارے میں کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

XS
SM
MD
LG