رسائی کے لنکس

عدالت کا عمران خان کے خلاف اخبار میں اشتہار دینے کا حکم


فائل فوٹو

مذکورہ مقدمے میں عمران خان کی طرف سے کوئی وکیل بھی عدالت میں گزشتہ تین سماعتوں کے دوران حاضر نہیں ہوا۔

پشاور کی ایک عدالت نے ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں مسلسل غیر حاضری پر حکام کو وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اخبار میں اشتہار دینے کا حکم دیا ہے۔

عمران خان کے خلاف یہ مقدمہ خیبر پختونخوا کی سابق رکنِ صوبائی اسمبلی فوزیہ بی بی نے دائر کیا ہے جن پر پاکستان تحریکِ انصاف نے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس الزام پر فوزیہ بی بی نے تحریکِ انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف 50 کروڑ روپے ہر جانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

ہفتے کو دعوے کی سماعت کے موقع پر پشاور کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج شاہ ولی اللہ نے مسلسل تیسری بار غیر حاضری پر وزیرِ اعظم کے خلاف قومی اخبار میں اشتہار شائع کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران فوزیہ بی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل تین بار عمران خان کو حاضری کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

وکیل نے استدعا کی کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے عدالت ان کے خلاف اخبار میں اشتہار چھپوانے کی اجازت دے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

مذکورہ مقدمے میں عمران خان کی طرف سے کوئی وکیل بھی عدالت میں گزشتہ تین سماعتوں کے دوران حاضر نہیں ہوا۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت عدالت کا احترام کرتی ہے اور اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے صلاح مشورے کے بعد کوئی حتمی رائے دے گی۔

تاہم اُنہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان کو اب عدالت میں حاضری دینے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

مارچ 2018ء میں ہونے والے سینیٹ کے اتنخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور دیگر پارٹی قائدین نے خیبر پختونخوا میں اپنی پارٹی کے 22 ارکانِ اسمبلی پر ووٹ فروحت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ان ارکانِ اسمبلی میں 2013ء کے انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے بعض ارکان بھی شامل تھے جو بعد ازاں تحریکِ انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔

فوزیہ بی بی سمیت بیشتر ارکانِ اسمبلی نہ صرف ان الزمات کو مسترد کرتے آئے ہیں بلکہ ان میں سے کئی نے عمران خان کے خلاف ہتکِ عزت اور ہرجانے کے دعوے بھی دائر کر رکھے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے مبینہ طور پر ووٹ فروخت کرنے والے ان تمام ارکانِ اسمبلی کو 2018ء کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیے تھے۔

لیکن جن ارکانِ اسمبلی پر پارٹی نے ووٹ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا تھا ان میں سے دو اس بار بھی آزاد حیثیت میں انتخابات میں کامیاب ہو کر خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG