رسائی کے لنکس

پشاور: صنفی امتیاز کے انسداد کے لیے قانون سازی کا مطالبہ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

سابق رکن صوبائی اسمبلی شازیہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم کر کے اُنھیں مزید موثر بنانے کے علاوہ نئی قانون سازی بھی کرے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں مختلف سیاسی جماعتوں کے راہنماﺅں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مذہبی شخصیات نے خواتین، بچوں، غیر مسلموں اور خواجہ سراﺅں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاق اور صوبے کی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

غیرسرکاری تنظیموں کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں جمعرات کو کل جماعتی کانفرنس میں شریک افراد نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں خواتین، بچوں، غیر مسلم اقلیتوں، خواجہ سراﺅں اور دیگر نظر انداز کیے گئے طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نہ صرف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ قانون میں پائے جانے والے سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قسم کے جرائم میں ملوث افراد سزاؤں سے بھی بچ جاتے ہیں۔

تقریب میں شریک سابق رکن صوبائی اسمبلی شازیہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم کر کے اُنھیں مزید موثر بنانے کے علاوہ نئی قانون سازی بھی کرے۔

’’موجودہ حکومت کے پاس یہ بہت بڑا موقع ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جو کام کیا یا تو اسی کو لے کر آگے چلیں یا ان سے کچھ بہتر کریں۔۔۔ خواتین، بچوں اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی خودکش دھماکوں میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں تو میرے خیال میں ان کی حفاظت کے لیے اگر مثالی قانونی سازی ہوتی تو اس سے بین لاقوامی برادری میں ہمارے صوبے کا تشخص بہتر ہوتا۔‘‘

پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان سے وابستہ مذہبی شخصیت حافظ محمد طیب قریشی نے کہا کہ وہ خواتین اور دیگر افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

’’عورتوں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی ہو، بچوں سے مشقت لینے کے خلاف قانون سازی ہو، اس کی ہم مکمل طور پر حمایت کریت کرتے ہیں اور اسی لیے یہاں آئے تھے ۔۔۔ مذہبی لوگ مدارس مساجد اس حوالے سے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جتنی قانون سازی ہو گی ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘‘

پختونخواہ سول سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈنیٹر تیمورکمال نے کہا کہ صوبائی اسمبلی اور حکومتی اداروں نے سول سوسائٹی کے مختلف کرداروں کو نظرانداز کیا، جس کی وجہ سے موثر قوانین نا بن سکے۔

تاہم صوبائی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ناصرف کچھ قانون سازی کی گئی بلکہ مروجہ قوانین پر عمل درآمد کو موثر بھی بنایا گیا۔

XS
SM
MD
LG