رسائی کے لنکس

پشاور میں ’ایف سی‘ قافلے کے قریب بم دھماکا، آٹھ افراد زخمی

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

پولیس کے مطابق قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ’ایف سی‘ کا ایک قافلہ پشاور آ رہا تھا کہ اُسے ناگومان نامی علاقے میں بم سے نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور کے مضافات میں فرنٹئیر کور ’ایف سی‘ کے ایک قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ’ایف سی‘ کا ایک قافلہ پشاور آ رہا تھا کہ اُسے ناگومان نامی علاقے میں بم سے نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے سے ’ایف سی‘ کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے بقول زخمیوں میں تین اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ دیگر پانچ عام شہری دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔

زخمیوں کو پشاور کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشتبہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی۔

تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں ایسے حملوں میں وہ شدت پسند گروہ شامل رہے ہیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیاں کرتی آرہی ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں اس سے قبل بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات پر حملے کیے جاتے رہے ہیں تاہم اب ایسے حملوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

لیکن حالیہ مہینوں میں خاص طور پر سکیورٹی فورسز اور پولیس کو بم حملوں میں نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

پشاور پولیس کے اعلیٰ عہدیدار سجاد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث راہ فرار اختیار کرنے یا روپوش ہو جانے والے عناصر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہیں جن کی سرکوبی کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے بھی بدستور سرگرم ہیں۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف 2014ء کے وسط میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کے اختتام کے بعد اب بھی سکیورٹی فورسز ملک کے طول و عرض میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور آئے روز کسی نہ کسی علاقے سے مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیے جانے کا بتایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG