رسائی کے لنکس

شدت پسند تنظیم سے تعلق کا الزام، دو طالبات خارج سے برخاست

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

طالبات کے وکیل کا موقف ہے کہ دوران تعلیم کالج میں ان طالبات کو ان کے باپردہ لباس کی وجہ سے مبینہ طور پر ہتک اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پشاور کے ایک نجی میڈیکل کالج کی دو طالبات نے خود کو دہشت گرد تنظیم سے روابط رکھنے کے الزام میں کالج سے نکالنے جانے کے اقدام کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔

یہ آپس میں دونوں بہنیں ہیں اور میڈیکل کے آخری سال کی طالبات ہیں۔

ان لڑکیوں کے وکیل محب اللہ کاکاخیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کالج انتظامیہ نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان طالبات کو کالج سے نکال دیا ہے جب کہ ان کا موقف ہے کہ دوران تعلیم کالج میں ان طالبات کو ان کے باپردہ لباس کی وجہ سے مبینہ طور پر ہتک اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

"انھیں ہراساں کیا گیا، اور پھر ان پر الزام لگاتے ہیں کہ تمہارا تعلق داعش سے ہے، اب کسی کی داڑھی یا حجاب والے لباس کی بنیاد پر داعش کا کہنا اور کالج سے نکال دینا زیادتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ان لڑکیوں کی تعلیم بھی مکمل ہونے والی تھی کہ انھیں کالج سے نکال دیا گیا ہے اور اب عدالت ہی کالج سے استفسار کرے گی کہ اس اقدام کی کیا وجوہات ہیں۔

"بہت ذہین بچیاں ہیں، تعلیمی ریکارڈ بھی اچھا رہا ہے ان کا۔ ایک بھائی ان کا ڈاکٹر ہے والد ان کا وائس چانسلر ہے (ایک نجی) یونیورسٹی کا۔۔۔اب عدالت مانگے کی کالج سے موقف تو وہ دیں گے۔"

طالبات کا یہ موقف بھی ہے کہ وہ کالج میں مخوط سرگرمیوں اور حال ہی میں طلبا کو تفریحی دورے پر شہر سے باہر لے جا کر وہاں پہلے سے طے شدہ پروگرام کو تبدیل کرنے کے خلاف انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور مبینہ طور پر ان کے کالج سے نکالے جانے کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔

اس بارے میں کالج انتظامیہ سے بارہا رابطہ کرنے کے باوجود ان کا موقف حاصل نہیں کیا جاسکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG