رسائی کے لنکس

پشاور میں ریپڈ بس منصوبے کا افتتاح

  • شمیم شاہد

عمران خان سمیت پاکستان تحریکِ انصاف کے بیشتر رہنما وفاقی اور پنجاب حکومت کے ایسے ہی منصوبوں کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک نے جمعرات کو پشاور میں ہونے والی ایک تقریب میں 'پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم' کا سنگِ بنیاد رکھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے 26 کلومیٹر طویل اس بس منصوبے کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا اہم کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف پشاور بلکہ صوبے بھر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آسانی ہوگی جو ان کے بقول شہر میں گھومنے پھرنے یا سرکاری دفاتر میں کام نمٹانے کے لیے آتے ہیں۔

پشاور کے ترقیاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے چمکنی سے حیات آباد تک 26 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ 57 ارب روپے کی لاگت سے چھ سے آٹھ ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔

اس منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے جی ٹی روڈ پر چمکنی کے مقام سے حیات آباد تک مختلف مقامات پر اہم سڑکوں اور چوراہوں پر بھاری مشینری پہنچادی گئی ہے۔

صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے لیے جاپان اور دیگر بیرونی ممالک سے 300 ایئر کنڈیشنڈ بسوں کی خریداری کے سودے بھی کیے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق منصوبے میں آٹھ مختلف روٹس کے ذریعے ان بسوں سے روزانہ پانچ لاکھ افراد سفرکریں گے۔

منصوبے کے تحت شہر بھر میں 31 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور ہر اسٹیشن پر بس صرف دو منٹ کے لیے رکے گی۔

منصوبے میں سائیکل سواروں کے لیے ایک علیحدہ روٹ ہوگا جب کہ خواتین کے لیے تمام بسوں میں علیحدہ کیبن ہوں گے۔

پاکستان میں 2013ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت وفاق اور پنجاب میں برسرِ اقتدار آئی تھی تو اس نے راولپنڈی اسلام آبادکے مابین سفر کو آسان بنانے کے لیے میٹرو بس منصوبہ متعارف کرایا تھا۔

اسلام آباد کے اس منصوبے سے قبل پنجاب کی صوبائی حکومت لاہور میں اسی طرز کے ایک منصوبے کو مکمل کرچکی ہے اور اب پنجاب حکومت ملتان میں ایسے ہی ایک بس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

لیکن عمران خان سمیت پاکستان تحریکِ انصاف کے بیشتر رہنما وفاقی اور پنجاب حکومت کے ان منصوبوں کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بس منصوبے سے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی USAID کے تعاون سے 2014ء سے جاری پشاور شہر کو خوب صورت بنانے کے منصوبے کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

صوبے میں حزبِ اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی سیکرٹری جنرل اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کو پشاور کی پہلے سے موجود سڑکوں پر تعمیر کیا جارہا ہے جس سے شہر کے اندر ٹریفک اور آمد و رفت کا مسئلہ مزید گھمبیر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پہلے سے شہر کے ارد گرد موجود رنگ روڈ یا کسی اور متبادل سڑک کے ذریعے ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس طرح کے منصوبوں کے لیے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کر رہی ہے جس سے صوبے کے وسائل پر مستقبل میں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

جمعرات کو پشاور میں بس مالکان اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ دیگر افراد نے بھی اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔

پشاور کی متحدہ ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے صدر نور محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس منصوبے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں مگر موجودہ صوبائی حکومت نے ان کے ساتھ چار برسوں میں کوئی رابطہ نہیں کیا۔

پشاور کی تاجر برادری نے اس منصوبے پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

پشاور کے علاقے صدر کے ایک تاجر شوکت اللہ ہمدرد نے اسے ایک اچھا منصوبہ قرار دیا مگرانہوں نے اسے بروقت مکمل کرنے پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG