رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور اسکول حملے کے متاثرین کا دکھ ایک سال بعد بھی تازہ


فضل خان کا کہنا تھا کہ ان کے عزم و ہمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دو دیگر بچوں کو اب بھی اسی اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیج رہے ہیں جہاں انھوں نے اپنا بڑا بیٹا کھویا۔

پشاور میں ہوئے مہلک دہشت گرد حملے کو ایک سال پورا ہو گیا اور ان 12 ماہ کے دوران حملے کا نشانہ بننے والے اسکول کے بچوں کو سرکاری اور نجی سطح پر خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ اپنے اپنے انداز میں جاری رہا۔

لیکن ایک سال بعد ان والدین کا دکھ اب بھی اسی طرح تازہ ہے جن کے بچے علم کی روشنی لینے گئے تھے کہ انھیں دہشت گردی کے اندھیرے نے نگل لیا۔

فضل خان کا 14 سالہ بیٹا عمر جان بھی ان بچوں میں شامل ہے جو 16 دسمبر 2014ء کو عسکریت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور زندگی کی بازی ہار گئے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے عزم و ہمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دو دیگر بچوں کو اب بھی اسی اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیج رہے ہیں جہاں انھوں نے اپنا بڑا بیٹا کھویا۔

"اس کمپاؤنڈ میں جس میں وہ (بچے) شہید ہوئے وہیں ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں، یہ تو ہمارا حوصلہ ہے ہماری ہمت ہے، ہم نہ بھاگنے والے ہیں نہ ڈرنے والے ہیں۔"

لیکن انھوں نے کسی قدر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں پر اس دہشت گرد حملے کا شدید نفسیاتی اثر بھی ہوا ہے۔

"(حکومت کو چاہیئے کہ) اس سے ان (بچوں) کے لیے مکمل طور پر ایک دوسرا کمپاؤنڈ بنائے مکمل طور پر ان کا ماحول تبدیل کرے۔۔۔ اسی ہال میں ان ہی کمروں میں اس ہی لائبریری میں اسی جگہ پر دوبارہ بچے اس قابل تو نہیں کہ وہ پڑھ سکتے ہیں۔۔۔بچے ابھی بھی نیند میں ڈرتے ہیں وہ رات کو اٹھ جاتے ہیں معمولی سی آہٹ ہوتی ہے تو ان کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔"

اسامہ ظفر کی عمر 15 سال تھی جب وہ اپنے دیگر ساتھی طلبا کے ساتھ آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

ان کے والد ظفر اقبال حکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے سلوک پر نالاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

"ایک والد کی حیثیت سے کہوں تو میرا دکھ بہت بڑا ہے میرا جوان بیٹا چلا گیا۔ لیکن حکومت کی اگر بات کریں تو انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔ہم نے کہا کہ اس واقعے کی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کروائی جائیں تاکہ سب کو پتا چل سکے کہ ان سب شہادتوں کے پچھے کون کون تھے۔"

لیکن بدھ کو پشاور میں ہی صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان بچوں کے والدین کو یقین دلایا کہ ان کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا اور اس ضمن میں جو کچھ ممکن ہے وہ کیا جا رہا ہے۔

ملک بھر میں بدھ کو پشاور اسکول حملے کا نشانہ بننے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان ریلیوں میں اسکول کے طلبا کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اسلام آباد میں ایک ایسی ہی ریلی میں شریک چھٹی جماعت کے طالب علم جیسن نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

"یہ جو دہشت گرد ہوتے ہیں یہ بہت برے لوگ ہوتے ہیں ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ دوسرے لوگوں کو اپنی چیزوں کے لیے مار دیتے ہیں یہ بہت بری بات ہوتی ہے۔۔۔میں سوچتا ہوں کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں کیونکہ اس طرح جو ہمارے بہن بھائیوں کی موت ہوئی ہے تو یہ پاکستان کے مستقبل کی موت ہو رہی ہے۔"

ریلی کے شرکا نے دہشت گردی کے خاتمے اور بچوں کی تعلیم کے حق میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم دے کر ہی معاشرے سے انتہا پسندانہ رجحان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG