رسائی کے لنکس

logo-print

طوفان اور غیرمعمولی بارشوں سے خیبرپختونخواہ میں 45 ہلاک


بارش کے ساتھ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہوا اور ژالہ باری سے کئی عمارتیں گرنے کے علاوہ درختوں اور بجلی کے کھمبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور اور اس سے ملحقہ دیگر اضلاع میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔

اتوار کی شام پشاور میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش ہوئی جس سے چارسدہ اور نوشہرہ کے اضلاع بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

صوبائی حکام نے پیر کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 45 تک پہنچ چکی ہے جب کہ زخمی ہونے والے لگ بھگ 200 افراد میں سے اب بھی بہت سے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

بارش کے ساتھ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہوا اور ژالہ باری سے کئی عمارتیں گرنے کے علاوہ درختوں اور بجلی کے کھمبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور شہریوں کو آمد و رفت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

درجنوں افراد منہدم ہونے والے والی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے تھے جنہیں نکالنے کے رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں پیر کی صبح امدادی کارکن اور فوج کے جوان کرینوں کی مدد سے طوفان سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہو گئے۔

اسلام آباد میں محکمہ موسمیات کے حکام نے اس طوفان کو ایک چھوٹے درجے کا ’ٹورنیڈو‘ یعنی بگولا طوفان قرار دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طوفان میں سینکڑوں کی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

گرج چمک سے ہونے والی بارشوں کے باعث اسلام آباد اور پشاور ایئرپورٹس پر کئی پروازیں بھی معطل کر دی گئیں۔

بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے پیر کو جاری رہا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ان دنوں گندم کی کٹائی کا موسم ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپریل کے مہینے میں والے غیر معمولی بارشوں سے گندم کی فصل بری طرح متاثر ہوئی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سال کے اس حصے میں غیر معمولی بارشیں موسمیاتی تبدیلی کا ایک اشارہ ہیں جس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG