رسائی کے لنکس

پشاور یونیورسٹی کے طلبا کا احتجاجی دھرنا تیرہویں روز میں داخل


پشاور یونیورسٹی کی طرف سے فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبا کا احتجاجی دھرنا اتوار کو تیرہویں روز میں داخل ہوگیا جب کہ اعلیٰ تعلیم کے صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں احتجاج کی آڑ میں نہ صرف طلبا کے مستقبل سے کھیل رہی ہیں بلکہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تقریباً دو ہفتے قبل صوبے کے اس بڑے تعلیمی ادارے میں طلبا نے تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا تھا اور گزشتہ بارہ روز سے یہ یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

احتجاجی طلبا کے ایک راہنما بلال بونیری نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ہاسٹل میں رہائش کے لیے سالانہ 42 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں جب کہ وہاں سہولتوں کا فقدان ہے اور ساتھ ہی ساتھ فیسوں میں ہر سال دس فیصد اضافہ بھی غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کی استطاعت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

"سب سے بڑا مسئلہ فیسوں کا ہے جو سال بہ سال دس فیصد فیصوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ ہاسٹل کی فیس کا مسئلہ ہے وہاں جو سہولتیں ہیں وہ یہ لوگ نہیں دے رہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس بابت یونیورسٹی انتظامیہ سے بارہا بات چیت کے باوجود یہ مسائل حل نہیں ہوئے جس پر یہ احتجاجی دھرنا دیا گیا جو ان کے بقول مطالبات کے تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ سے اس بارے میں ردعمل جاننے کی کوششیں تو باآور ثابت نہیں ہو سکیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کی احتجاجی طلبا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بات چیت ہوئی تھی جس میں ان مسائل کے حل پر اتفاق ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسائل چٹکی میں تو حل نہیں ہوں گے لیکن اس کے لیے یونیورسٹی سے موثر اقدام کرنے کا کہا جا چکا ہے اور آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں فیسوں کی بابت بھی پیش رفت ہو جائے گی۔

"افسوسناک بات ہے جب مذاکرات ہوگئے تو پھر یہ دھرنا جاری نہیں رہنا چاہیے تھا۔۔۔یہ (طلبا) باہر بیٹھے ہوتے ہیں سیاسی راہنما وہاں جاتے ہیں اور وہ ان کو اور بڑھاوا دیتے ہیں جو کہ غلط بات ہے۔ یونیورسٹی خودمختار ادارہ ہے لیکن ہم نے اپنے طور پر مداخلت کی ورنہ ہمارا قانون یونیورسٹی میں نہیں چلتا ان کا اپنا ایکٹ ہے۔"

تاہم بلال بونیری کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی مسائل کے حل پر زبانی جمع خرچ ہوتا رہا ہے لیکن طلبا اسی صورت مطمئن ہوں گے جب اس بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ تحریری طور پر یقین دہانی کروائے گی۔

XS
SM
MD
LG