رسائی کے لنکس

logo-print

82 سال پرانے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست


یہ ایسا مقدمہ ہے جس میں ایک جانب بھارت کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ ہیں تو دوسری جانب برطانوی جج ہیں جو شاید اب اس دنیا میں بھی نہ ہوں ۔

لاہور ہائی کورٹ میں منگل کو اپنی نوعیت کا ایک دلچسپ تاریخی مقدمہ 82سال بعد دوبارہ شروع کرنے اور اس کا ازسر ِنو فیصلہ کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ ایسا مقدمہ ہے جس میں ایک جانب بھارت کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ ہیں تو دوسری جانب برطانوی جج ہیں جو شاید اب اس دنیا میں بھی نہ ہوں۔

درخواست بیاسی سال پہلے برطانوی راج میں پھانسی کی سزا پانے والے بھارت کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ کا کیس ری اوپن کرنے کیلئے ’بھگت سنگھ میموریل فاونڈیشن‘ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزادی سے قبل انگریز ججوں نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ کیس میں نہ تو بحث ہوئی اور نہ ہی گواہوں کو گواہی کا حق دیا گیا جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ سزا کے خلاف پری وی کونسل میں اپیل بھی کی گئی مگر حکومت برطانیہ نے اپیل مسترد کردی اور سزا برقرار رکھی۔

درخواست گزار کے مطابق بھگت سنگھ کی پھانسی پاک و ہند کا ایک اہم تاریخی واقعہ ہے لہذا عدالت کیس کی اہمیت کے پیش نظر اسے ری اوپن کرنے کے احکامات جاری کرکے انصاف کے مطابق اس کا دوبارہ فیصلہ کرے اور بھگت سنگھ کو بے گناہ قرار دیا جائے۔

درخواست کی وصولی کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کے لئے کل یعنی بدھ 10 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

بھگت سنگھ کون تھے؟
بھگت سنگھ 28 ستمبر1907ء کو موجودہ پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد ( اس وقت کا لائل پور) میں پیدا ہو ئے تھے۔ اس وقت جنوبی ایشیاء میں برطانوی راج تھا۔ 1919 ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی راج کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنے والے سینکڑوں ہندوستانیوں کو ایک انگریز افسر جنرل ڈائر کے حکم پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

بھگت سنگھ اس وقت بارہ برس کے تھے، اس واقعے سے انگریز حکومت کے خلاف جو نفرت انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر گئی تھی۔

اس نفرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ1920ء میں انہوں نے اپنی کتابیں جلا ڈالیں اور ’نوجوان بھارت سبھا‘ نامی ایک انقلابی گروپ میں شامل ہو گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انہیں علامہ اقبال کی ولولہ انگیز شاعری سے جنون کی حد تک لگاوٴ تھا۔

سن 1928ء میں لاہور میں ہندوستانی لیڈر لالہ لاجیت رائے، سائمن کمیشن کے خلاف پرامن مظاہرے میں پولیس تشدد سے ہلاک ہو گئے جس کے بعد بھگت سنگھ کے جذبات مزید بھڑک اٹھے۔

سن 1929ء میں بھگت سنگھ اور ان کے دو دیگر ساتھیوں نے اس وقت کی اسمبلی میں بم پھینکا اور بعد میں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ناانصافیوں کی جانب توجہ مبذول کرنے کی کوشش تھی۔

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں پر اس وقت کے سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سانڈرس اور حوالدار جین سنگھ کے قتل کا الزام لگا یا گیا اور انہیں گرفتار کر کے لاہور میں مقدمہ چلایا گیاجس میں انہیں سزائے موت سنا ئی گئی ۔23 مارچ 1931ء کو بھگت سنگھ اور ان کے ایک اور ساتھی سکھ دیو کو پھانسی دے دی گئی۔

بھگت سنگھ میموریل کا کہنا ہے کہ سزا کا فیصلہ کرنے والی عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے اور جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھگت سنگھ کو پھانسی دے دی گئی لہذا عدالت اس کیس کی دوبارہ سماعت کرے۔

بھگت سنگھ کو بالی ووڈ کا خراج عقیدت
بھارت میں بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے حتیٰ کہ ان پر بالی ووڈ میں کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ آخری فلم ”رنگ دے بسنتی “ سن دو ہزار چھ میں بنائی گئی تھی جس میں بھگت سنگھ کے زمانے کی انقلابی نسل اور آج کی نوجوان نسل کا موازنہ کیا گیا تھا۔

دو ہزار دو میں راج کمار سنتوشی نے اجے دیوگن پر بھگت سنگھ کے کردار کو اجے دیوگن پر فلمایا جبکہ انیس سو پینسٹھ میں ایس ایم شرما نے بھگت سنگھ پر پہلی فلم بنائی تھی۔
XS
SM
MD
LG