رسائی کے لنکس

امریکہ میں زیر حراست افغان خاندان کی رہائی کے لیے درخواست


تارکین وطن کو معاونت فراہم کرنے کے لیے امریکی ہوائی اڈے پر موجود سماجی کارکنان (فائل فوٹو)

حراست میں لیے گئے خاندان میں خاوند، بیوی اور ان کے تین بچے شامل ہیں جن کی عمریں سات سال، چھ سال اور ایک کی آٹھ ماہ ہے۔

مہاجرین کی مدد کرنے والی ایک تنظیم نے امریکہ میں امیگریشن حکام کی طرح سے تحویل میں لیے گئے ایک افغان خاندان کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

پانچ افراد پر مشتمل اس خاندان کو لاس اینجلس پہنچنے پر حکام نے حراست میں لیا تھا۔ یہ افراد یہاں سے سیاٹل جانا چاہتے تھے جہاں ان کا آباد ہونے کا ارادہ تھا۔

انٹرنیشنل رفیوجی اسسٹنس پراجیکٹ نے اس خاندان کی طرف سے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں ان کی رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔

حراست میں لیے گئے خاندان میں خاوند، بیوی اور ان کے تین بچے شامل ہیں جن کی عمریں سات سال، چھ سال اور ایک کی آٹھ ماہ ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان بچوں کا والد افغانستان میں امریکی حکومت کے لیے کام کرتا رہا ہے اور اسپیشل امیگرینٹ ویزہ حاصل کر کے کئی سالوں کی جانچ پڑتال کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ آیا تھا۔

مزید برآں درخواست کے مطابق حراست میں لینے کے علاوہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے حکام نے ان افراد تک وکلا کی رسائی بھی رکاوٹ ڈالی۔

درخواست میں کہا گیا کہ "امریکی حکومت کی طرف سے اس خاندان کے ساتھ کیا جانے والا دھوکہ ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔"

زیر حراست افراد کے نام تو ظاہر نہیں کیے گئے کیونکہ وکیل کو اس کی اجازت موصول نہیں ہوئی اور نام افشا کیے جانے سے اس خاندان کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست کے مطابق یہ خاندان جمعرات کو امریکہ پہنچا تھا جسے فوری طور پر کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے ایجنٹس نے حراست میں لے لیا۔

خاندان میں شامل ماں کو بچوں کے ساتھ لاس اینجلس میں تحویل میں رکھا گیا جب کہ والد کو کیلیفورنیا کی اورینج کاؤنٹی کی ایک سخت سکیورٹی والے حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG