رسائی کے لنکس

logo-print

صحافت پر غیر اعلانیہ پابندیاں، پی ایف یو جے کے احتجاجی مظاہرے


پاکستان میں ’صحافت پر سینسر شپ، غیراعلانیہ برطرفیوں اور اشتہارات کی بندش‘ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر ملک بھر میں اجتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

ان مظاہروں میں شریک صحافیوں کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا، بلکہ ماضی میں بھی صحافیوں پر ایسی ہی پابندیاں لگانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ہر بار ایسا کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔

اسلام آباد میں پی ایف یو جے کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے شروع ہوئی اور ایکسپریس چوک پہنچی، ریلی میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ اور دیگر جماعتوں کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت اخبارات پر غیر اعلانیہ سینسر شپ کی جا رہی ہے، جبکہ اشتہارات نہ ہونے کی وجہ سے کئی اداروں سے ملازمین کو فارغ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

نیشنل پریس کلب کے جنرل سیکرٹری شکیل انجم نے کہا کہ ’’اس وقت میڈیا انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت سینسر شپ کا ہر ادارے کو سامنا ہے‘‘۔

صحافی عابد عباسی کا کہنا تھا کہ ’’نئی حکومت جو رویہ اختیار کر رہی ہے اس کی وجہ سے صحافیوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی پر سیلف سینسر شپ کی وجہ نادیدہ ہاتھ ہے جس کی وجہ سے تمام میڈیا دباؤ کا شکار ہے۔‘‘

خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں پریس کلب کے سامنے صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ’’بے جا سنسر شپ‘‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اظہار رائے پر پابندی، میڈیا مالکان کی طرف سے صحافیوں کو نوکریوں سے بے دخل کرنے اور صحافیوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے حوالے سے تربیت نہ ہونے پر اظہار افسوس کیا۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیف الاسلام صافی نے ’وائس اف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک بھر میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے صحافیوں کو شدید خطرات درپیش ہیں، پیمرا کے قوانین بناتے وقت صحافیوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا جس سے پورا میڈیا دباؤ کا شکار ہے‘‘۔

صافی نے کہا کہ ’’گزشتہ ایک عشرے سے زائد وقت میں خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں 34 صحافی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’نہ صحافیوں کی سیفٹی کا نظام موجود ہے اور نہ ہی مرنے والوں کے لئے کوئی امدادی پیکج دیا جاتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’مرنے والے صحافیوں میں کسی ایک کی بھی انکوائری رپورٹ ابھی تک منظرعام پر نہیں لائی گئی جس سے اندازہ ہوسکے کہ ان کے قتل کے محرکات کیا تھے اور ان کے پیچھے کون لوگ تھے‘‘۔

خیبر یونین کے سینئر نائب صدر عزیز بونیری نے اس موقع پر کہا کہ ’’میڈیا مالکان بنا کسی وجہ کہ صحافیوں کو نوکریوں سے بے دخل کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اگر میڈیا انڈسٹری کا کاروبار زوال پذیر ہے تو حکومت نئے چینلز کو لائسنس کیوں جاری کر رہی ہے‘‘۔

صحافی و تجزیہ کار عرفان خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’صحافی ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے۔ صحافیوں کو حقائق سامنےلانے نہیں دیا جا رہا‘‘۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں بھی پی ایف یو جے کی کال پر ’غیر اعلانیہ سنسر شپ، اشتہارات کی بندش اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں‘ کے خلاف تاریخ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافیوں کے ساتھ سول سوسائٹی، وکلاء اور سیاسی تنظیموں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ماضی میں بھی آمر دور حکومتوں میں میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں اور اب ایک مرتبہ بھی میڈیا سسنر شپ اور صحافیوں کی برطرفی کے ذریعے کارکن صحافیوں پر پریشر ڈالا جا رہا ہے جو کسی صورت بھی برداشت نہیں کی جائے گی‘‘۔

اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد نے بتایا کہ ’’بلوچستان میں بھی ٹی وی چینل اور اخباری صنعت سے وابستہ صحافیوں اور دیگر کارکنوں کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، جس سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں‘‘۔

صحافیوں کا اجتجاج اگرچہ جاری ہے، لیکن حکومت موجودہ صورتحال پر بالکل خاموش نظر آرہی ہے۔ چند روز قبل ایک نیوز کانفرنس کے دوران تنخواہ نہ دینے والے چینل کا مائیک وزیر اطلاعات کے سامنے سے اٹھا دیا گیا تو اس وقت بھی ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم صحافیوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ لیکن، اس ادارے سے تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد کے سوال پر وزیر اطلاعات خاموش رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG