رسائی کے لنکس

فلپائن کے صدر پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام


صدر ڈوٹرٹے (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک سات ہزار سے زائد افراد ڈوٹرٹے کی اس "جرم کش" مہم کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

فلپائن کے ایک سابق پولیس عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ صدر روڈریگو ڈوٹرٹے جب ایک شہر کے میئر تھے تو اُنھوں نے منشیات فروشوں، اغوا کاروں، اپنے ناقدین اور ان کے اہل خانہ کے ماورائے عدالت قتل کے لیے ایک اسکواڈ بنا رکھا تھا، جس میں پولیس کے لوگ بھی شامل تھے جنہیں اس کام کا معاوضہ بھی ادا کیا جاتا تھا۔

پیر کو منیلا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق پولیس عہدیدار آرتورو لاسکیناس نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ سب باتیں اپنے ضمیر کی ملامت پر افشا کر رہے ہیں۔

اس دوران وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کہا کہ انھوں نے اپنے دو بھائیوں کو بھی قتل کیا کیونکہ وہ دونوں بھی منشیات کے عادی تھے۔

"میں نے اپنے دو بھائیوں کو بھی قتل کیا۔ اب اگر میں مر بھی جاتا ہوں تو میرا ضمیر مطمیئن ہے کہ میں نے اپنے خدا سے کیا ہوا یہ وعدہ کہ میں ان سب باتوں کا کھلے عام اعتراف کروں گا، پورا کر دیا ہے۔"

لاسکیناس کے مطابق ڈاواؤ کے میئر کے طور پر ڈوٹرٹے نے بہت سے لوگوں کو مارنے کا حکم دیا ان میں 1993ء میں اس بنا پر مساجد میں دھماکے بھی کروائے کہ مسلمان باغیوں نے مبینہ طور پر رومن کیتھیڈرل پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ڈوٹرٹے کے حکم پر انھوں نے اغوا میں ملوث ایک مشتبہ شخص، اس کی حاملہ بیوی، چھوٹے بیٹے، سسر اور دو دیگر افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ان کے بقول جب ان کے گروپ نے ڈوٹرٹے کو اس شخص کو حراست میں لیے جانے کا بتایا تو میئر کے الفاظ تھے "ٹھیک ہے، اسے صاف کر دو۔"

ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں
ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی بنا پر صدر ڈوٹرٹے کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال صدر کی طرف سے تو اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن ان کی حکومت کے ایک عہدیدار مارٹن اینڈنر نے "سی این این فلپینز" سے انٹرویو میں کہا کہ لاسکیناس کے دعوے ایک "طویل سیاسی ڈرامے" کا حصہ ہیں اور صدر کے ناقدین کی طرف سے ڈوٹرٹے کی "کردار کشی" کی کوشش ہے۔

ڈوٹرٹے 2015 کے اواخر تک صدر منتخب ہونے سے قبل مجموعی طور پر ڈاواؤ کے 22 سال تک میئر رہے اور انھوں نے اس دوران جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے سخت گیر کارروائیوں بھی شروع کر رکھی تھیں۔

ان کا پہلے بھی ایسے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن وہ ان کی تردید کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک سات ہزار سے زائد افراد ڈوٹرٹے کی اس "جرم کش" مہم کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق پولیس عہدیدار نے گزشتہ سال سینیٹ میں اس بابت ہونے والی ایک سماعت میں ایسا کوئی بھی بیان نہیں دیا جو پیر کو ان کے انکشافات سے میل کھاتا ہو۔

لاسکیناس نے پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ریڈیو کے ایک میزبان کو بھی قتل کیا جو ڈوٹرٹے کا ایک بڑا نقاد تھا۔

ان کے بقول ڈاواؤ میں ایسے مرنے والوں کو عموماً دفن کر دیا جاتا یا سمندر میں پھینک دیا جاتا اور اس سب کے اخراجات بھی مبینہ طور پر ڈوٹرٹے ہی ادا کرتے۔

ڈوٹرٹے نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد یہ عہد کیا تھا کہ وہ فلپائن کو جرائم سے پاک کر دیں گے۔

ان کے بہت سے اقدام کو انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG