رسائی کے لنکس

logo-print

نوجوانوں کو درپیش تلخ سچائیوں سے روشناس کراتی منفرد تصویر ی نمائش


پاکستان اور خاص کر کراچی کا آج کا نوجوان جن حالات میں سانس لے رہا ہے ان میں ایک نہیں بہت سے مسائل کا اسے سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔ اسے غالباً ہر روز سماج میں بڑھتے ہوئے کرب اور گھٹتی ہوئی چیخوں کو دباتے ہوئے کئی تکلیف دہ سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے جوابات تو اس کے پاس ہوتے ہیں مگریہ تسلی بخش نہیں ہوتے۔نئی عمر کی نئی فصل ۔۔یہ نوجوان ۔۔کن حالات میں زندہ ہیں اور ان مسائل کو کس طرح دیکھتے ہیں۔۔ اس کی بھرپور عکاسی کی ہے کراچی کے دو نوجوان فوٹو گرافرزخرم اکبر خان اور مفلحہ رحمن نے ۔اپنے کیمرے کی آنکھ سے۔

دونوں نوجوانوں کا تعلق ذرائع ابلاغ سے ہے۔مگر وہ اپنا مستقبل کیمرے سے بھی وابستہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی ذوق کو جلا بخشنے کے لئے انہوں نے کراچی کے آرٹس کونسل میں اپنے فوٹوگرافس کی نمائش کی جس کا افتتاح نوجوان گلوکار فاخر کے ہاتھوں ہوا۔ نمائش کا عنوان ہی تھا ”بلاعنوان“

وائس آف امریکا سے خصوصی بات چیت میں خرم اکبر کا کہنا تھا ”ہم یہ چاہتے تھے کہ معاشرے کی تلخ ترین سچائیوں کو کسی ایسے طریقے سے سامنے لایا جائے کہ انہیں لفظوں کی حاجت ہی نہ رہے۔ سچ پوچھئے تو یہ ایک ایسے نوجوان کی’ تصویری کہانی ‘ہے جس کے پاس ڈگری ہے۔۔مستقبل سنوارنے کے منصوبے ہیں مگر وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ناانصافیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا حق کوئی اور لے اڑتا ہے اور اس کے پاس سوائے اپنے آپ سے لڑنے کے اور کچھ نہیں رہ جاتا ۔۔۔۔کھڑکی سے ابھرتے ، آواز دیتے سائے، تنہائی میں سگریٹ کا دھواں اڑاتابرہنہ نوجوان، حسین بالوں سے لپٹے چہرے ۔۔۔سگریٹ کے نشے میں دھت جوان لڑکی ۔۔یہ سب تصویریں ذہنی انتشار کی علامتیں ہیں۔۔یہ کہانی کا پہلا رخ ہے ۔ “

خرم کی بات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اور دوسرے رخ سے روشناس کرتے ہوئے مفلحہ رحمن کہتی ہیں۔۔دوسرے رخ میں نوجوانوں کی سوچ کے بدلتے ہوئے زاویئے کی عکاسی ہے۔۔جس میں نوجوان کوذہنی ٹھہراؤ تو نہ آیا مگروہ انتہا تک ضرور پہنچا۔۔نازک پھولوں میں داخل ہوتی دھاتی گولی کی تصویر نے زندگی اور موت کے ملاپ کا آئینہ پیش کیا۔۔نوجوانوں نے قلم کی جگہ بلٹ اور بیگ کی جگہ میگزین رکھنا شروع کردئیے، صنف نازک نے مردوں کے ہتھیاراٹھالئے۔۔پھرنئی راہیں کھلیں۔۔خون بھرے فوجی بوٹوں کے ساتھ سرخ سینڈل نے قدم اٹھایا۔۔یہ تصویر بدلتی سوچ کی حسین عکاس بنی۔۔پھر پرس سے جیولری کے ساتھ گن نکلنے لگی۔۔عورت نے سنگین رو پ اختیار کیا۔۔، پنکھڑی جیسے ہونٹوں پر سنہری بلٹ سے خون رنگنے لگا، آنکھوں سے وحشت ٹپکنے لگی،موت کا کھیل گولیوں کے ہار کی صورت میں گردن کے گرد شنکجہ کسنے لگا، اور پھر قتل ہوا ۔۔لیکن کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔۔اب نئے ٹارگٹ کی تلاش ہے۔۔

فوٹوگرافی میں ایوارڈ یافتہ ان دونوں نوجوانوں کی یہ تیسری تصویری نمائش تھی۔اس سے پہلے انھوں نے فیشن کی رنگینیوں اور غربت کے ستائے بچوں کو خوبصورتی سے عکس بند کیاتھا۔انہیں آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کی جانب سے صدارتی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے ۔مفلحہ اور خرم’ تیسری آنکھ‘ سے زمانے کے ان لمحات کودیکھتے ہیں جوکہیں۔۔ گم گشتہ گلیوں کی تاریکیوں میں گم ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG