رسائی کے لنکس

logo-print

پی آئی اے ملازمین کی ممکنہ ہڑتال کے خلاف حکومت کا سخت اقدام


ملازمین ہڑتال کے فیصلے پر ڈٹ گئے۔ یونینز نے منگل کو ملک بھر میں پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت نے 6 ماہ کے لئے ’لازمی سروسز ایکٹ ‘نافذ کردیا جس کے تحت تمام یونین غیر موثر ہوگئی ہیں۔ ہڑتال کرنے والوں کو نوکری سے فارغ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ کے ملازمین اور حکومت کے درمیان نج کاری کے معاملے پر صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ ملازمین کی یونین اور پائلٹوں کی تنظیم ’پالپا‘ منگل کو ملک بھر میں پروازیں معطل رکھنے کے فیصلے پر برقرار ہے، جبکہ حکومت نے پیر کی شام ادارے میں ’لازمی سروسز ایکٹ‘ نافذ کردیا جس کے تحت تمام یونینز غیر موثر ہوگئی ہیں اور ملازمین کا ہڑتال کرنے کا حق معطل ہوگیا ہے۔

حکومتی اعلانات میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی خلاف ورزری کی صورت میں کسی بھی ہڑتالی ملازم کو سزا کے طور پر نوکری سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پی آئی اے ملازمین کے حق میں جاری بیانات سے مبصرین کو اشارے مل رہے ہیں کہ وہ معاملے کو سیاسی رنگ دینا چاہتی ہے۔

موجودہ صورتحال پر مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں معاملات سنگین ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ وہ اس حوالے سے منگل کو خاصا ’گرماگرم خبروں والا دن‘ قرار دے رہے ہیں۔

پائلٹوں کی تنظیم ’پالپا‘ اور ملازمین یونینیں پچھلے ایک ہفتے سے احتجاجی دھرنے پر ہیں اور مختلف شہروں میں پی آئی اے کے دفاتر پر کام بند ہے۔ احتجاج کے اگلے مرحلے میں ملازمین نے کل یعنی منگل کی صبح سات بجے سے ملک بھر میں پروازیں بند کرنے کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے جسے روکنے کے لئے حکومت نے لازمی سروسز ایکٹ نافذ کردیا ہے۔ تاہم، ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ہڑتال کرکے رہیں گے۔

پی آئی اے کے ملازمین کا الزام ہے کہ حکومت فضائی کمپنی کو نجی شعبے کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو انہیں کسی صورت منظور نہیں۔ وہ نج کاری کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ نجکاری جیسی کوئی تجویز تک زیر غور نہیں۔

ملازمین پچھلے ایک ہفتے سے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کیپٹن سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ”ڈیڈلائن پر قائم ہیں، منگل کو ملک بھر میں کہیں سے بھی طیارے فضاء میں بلند نہیں ہوں گے۔“

حکومت کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے نفاذ کے بعد اب قانوناً کوئی ملازم غیر حاضر نہیں رہ سکتا، اگر وہ ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے بجائے احتجاج کرتا پایا گیا تو فوراً ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔

لازمی سروسز ایکٹ کے نفاذ کیلئے وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کو ایوی ایشن ڈویژن کی سمری کی فوری منظوری دے دی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ جو لوگ ہڑتال کریں گے ان کے ’پر‘ کاٹ دیئے جائیں گے۔‘

دوسری جانب سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر سعید غنی نے وائس آف امریکہ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’لازمی سروس ایکٹ کا نفاذ ملازمین کے احتجاج کا راستہ روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔‘ انہوں نے وزیراعظم پر الزام لگایا کہ وہ پی آئی اے کو من پسند لوگوں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ”پی آئی اے ملازمین کی جدوجہد میں پیپلز پارٹی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔‘‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ لازمی سروس ایکٹ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پیپلز پارٹی پی آئی اے سمیت تمام قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف سخت مزاحمت کرے گی۔

XS
SM
MD
LG