رسائی کے لنکس

’درنجف، سفید رنگ کا پتھر ہے جس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ وہ نجف میں صرف شہدا قبرستان پر ہونے والی بارش کے قطروں سے بنتا ہے، اسی لئے پانی کے بلبلے کی طرح نظر آتا ہے ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پہلا اسلامی مہینہ ’محرم‘شروع ہو چکا ہے۔ اس ماہ کی دس تاریخ کو پیغمبر اسلام کے نواسے حضرت امام حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں اور اہل خانہ و خاندان کے افراد کی شہادت کے واقعے کے سبب اسے نہایت اہمیت حاصل ہے۔

حضرت امام حسین کا مقبرہ عراق کے شہر نجف میں واقع ہے۔ نجف جہاں اور بہت سی وجوہات کے سبب دنیا بھر میں مشہور ہے وہیں یہاں کے قیمتی پتھر بھی دنیا میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔

مقبرے کے قریب ہی واقع مارکیٹ کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ محرم کے مہینے میں ان قیمتی پتھروں کی طلب پوری کرنا بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے جبکہ ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔

کراچی کے ایک رہائشی احمر علی رضوی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’’آپ نے بہت سے قیمتی پتھروں کے نام سنے اور انہیں دیکھا ہو گا جیسے عقیق،یاقوت، مرجان، فیروزہ،زمرد،پکھراج، بلور،نیلم،پنا، ہیرا اور اوپل، جبکہ کچھ پتھر اس کے علاوہ بھی بہت قیمتی تصور کیے جاتے ہیں لیکن ان کے نام کم ہی لوگ جانتے ہیں جیسے زرقون، لاجورد، کہربا، مرفشیشا، سنگ یشب اور کرمانی۔‘‘

احمر رضوی نے مزید بتایا’’ مشہور پتھروں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ ان کے الگ الگ نام ہیں جو ان کے رنگوں یا جن ملکوں میں یہ پائے جاتے ہیں ان کے ناموں سے منسوب ہیں جیسے یمنی یاقوت یا ’در نجف‘۔

احمر کے بقول ’درنجف، سفید رنگ کا پتھر ہے جس کے متعلق یہ روایت ہے کہ وہ نجف میں صرف شہدا قبرستان پر ہونے والی بارش کے قطروں سے بنتا ہے، اسی لئے پانی کے بلبلے کی طرح نظر آتا ہے۔ اسے خام حالت میں حاصل کرنے کے بعد تراشا اور خراشا جاتا ہے۔ ‘‘

احمر مزید بتاتے ہیں ’’در نجف ‘ اکثر و بیشتر تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے۔ اس کے اپنے کئی خواص و اثرات ہیں۔ اسی لئے اسے نہایت قیمتی اور اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔‘‘

بہت سے ذاکر اور عام افراد ان پتھروں کو انگوٹھی یا انگشتری میں جڑ کر پہنتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان پتھروں کو الگ الگ دنوں میں پہنا جاتا ہے۔ ہر روز ہر پتھر بھی پہننا شروع نہیں کیا جاتا۔

پتھروں کا چناؤ ان کے ستاروں، جرج یا ’زوڈیک سائن ‘کی مناسبت سے کیا جاتا ہے جیسے مرجان ‘ برج حمل‘ سرطان‘ اسد‘ میزان‘ عقرب ‘جدی‘ دلو اور حوت والوں کے لئے فائدہ مند خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ روایت بھی مشہور ہے کہ سب پتھر سب لوگوں کو راس بھی نہیں آتے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ قیمتی پتھر یا ’جیمس‘ کو بیماریوں سے شفاء یا ان سے بچنے، بھوت پریت یا کسی برے سائے سے نجات پانے، دل کی مراد حاصل کرنے، صحت مندی، دشمن سے حفاظت اور دیگر بہت سی وجوہات کے سبب پہننا اور استعمال کیا جاتا ہے۔

ان قیمتی پتھروں سے جڑی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پتھروں کے اصلی یا نقلی ہونے کی پرکھ کرنے کے طریقے بھی بہت انوکھے ہوتے ہیں جیسے :

روایات کے مطابق اصل مرجان اگر گائے کے دودھ میں ڈال دیا جائے تو اس میں لال رنگ کی جھائی دکھائی دینے لگتی ہے۔

اسی طرح اصل ہیرے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اگر ہیرا اصلی ہے تو اسے گرم پگھلے ہوئے گھی میں ڈال دیا جائے تو اس سے گھی جلدی جمنے لگتا ہے۔

قیمتی پتھروں کے اصلی یا نقلی ہونے یا انہیں پرکھنے کے ان طریقوں میں کتنی سچائی ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے تاہم پتھروں کے اپنے خواص اور اثرات ہوتے ہیں، اس پر عوام کی بہت بڑی اکثریت یقین رکھتی ہے۔

روایت مشہور ہے کہ اعلیٰ درجہ کا مرجان پہننے سے زمین ‘بیٹوں اور بھائیوں کا سکھ ملتا ہے۔ یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ اس سے نصیب اچھا ہوتا ہے۔ اسے پہننے والا کئی بیماریاں اور بھوت پریت سے محفوظ رہتا ہے۔

ایک اور روایت کے مطابق فیروزہ کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے جبکہ کسی قیمتی پتھر پر کوئی قرآنی آیت کندہ ہو، اس سے پہننے والے کی حفاظت ہوتی ہے۔

بیشتر افراد نجومی کے مشورے سے قیمتی پتھر پہنتے ہیں جبکہ پہننے کا طریقہ بھی مخصوص ہوتا ہے۔ کون سا پتھر کس انگلی میں اور کس ہاتھ میں پہننا ہے یہ بھی بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

کراچی میں انگھوٹیون میں جڑے جانے والے یہ پتھر مختلف مزاروں کے ارد گرد، فٹ پاتھون اوربڑی بڑی دکانوں میں ملتے ہیں لیکن نجف میں اس کی سب سے زیادہ خریداری امام حسین کے مقبرے کے قریب واقع بازار میں ہوتی ہے۔

نجف، قیمتی پتھروں کے لئے مشہور
زائرین جب بھی نجف جاتے ہیں وہاں سے اپنے اور اپنے قریبی رشتے داروں، دوستوں اور اہل خاندان کے لئے قیمتی پتھر سے مزین انگوٹھیاں ضرور لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک عراقی شہر جانے والے زائرین کے لیے انگوٹھی خریدنا معمول کی بات ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق نجف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مقبرے کی زیارت کو جانے والے زیادہ تر زائرین کے جذبات ایک جیسے ہوتے ہیں۔

ان پتھروں کا کاروبار کرنے والے فائز ابو غنیم نے اے ایف پی کو بتایا ’’ قیمتی پتھروں کے خریداروں کا تعلق سعودی عرب، ایران، بحرین، پاکستان، کویت، لبنان اور عمان سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے تحفے کے طور پر تسبیح یا پتھر خریدتے ہیں۔‘‘

مذہبی اجتماعات کے دنوں میں خاص طور پر محرم میں زائرین بڑی تعداد میں نجف کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں پتھروں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ بعض انگوٹھیوں کی قیمت تو ہزاروں ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

کئی زائرین نجف سے انگوٹھی کی خریداری کو اپنے مذہبی عقیدے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بیشتر افراد مذہبی اور تاریخی حوالوں کی وجہ سے انگوٹھیاں پہنتے ہیں ۔۔۔اور یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے سبب قیمتی پتھروں کی طلب زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG