رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد میں تین ماہ کے لیے فوج کی تعیناتی کا فیصلہ


حکومت کے مطابق اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے فیصلے کا تعلق عمران خان کے اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے نہیں ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ آئین کے ’آرٹیکل 245‘ کے تحت حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی کی ذمہ داری یکم اگست سے تین ماہ کے لیے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ ملک کے شہروں میں حملہ کریں گے اور اُسی تناظر میں اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’ہماری جتنی اہم تنصیبات ہیں، وہاں پہلے سے فوج تعینات ہے۔ اُنھیں (وہاں) رہنے کے لیے ایک قانونی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے جو اُنھیں فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘

قانونی ماہر ایس ایم ظفر کہتے ہیں آئین حکومت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے سویلین انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو بلا سکتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن 15 جون سے جاری ہے اور اس کارروائی کے آغاز کے بعد ہی سے ملک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔

لیکن وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سلامتی کی ذمہ داریاں فوج کو دینے کا یہ فیصلہ ایسے وقت کیا جب حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف نے مئی 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 14 اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا اعلان کر رکھا ہے۔

اگرچہ حکومت کے مطابق اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے فیصلے کا تعلق عمران خان کے اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے نہیں ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں تین ماہ کے لیے فوج کو دینے کے فیصلے کا ایک مقصد جہاں دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کے خطرات ہیں تو دوسری وجہ ملک کی سیاسی صورت حال بھی ہے۔

اس بارے میں تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ ’’اس میں جہاں دہشت گردی کا ڈر ہے وہیں میرے خیال میں جو عمران خان کی طرف سے سیاسی دباؤ وہ بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ حکومت یہ دکھانا چاہتی ہے کہ فوج اُن کے ساتھ ہے۔‘‘

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے آغاز کے بعد اگرچہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ تو پیش نہیں آیا تاہم صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور سمیت ملک کے کئی دیگر شہروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں خاص طور پر پولیس پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

جمعہ کو بھی ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں کا ہلاک کر دیا۔

اُدھر شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور فوج کے ایک بیان کے مطابق جمعرات کی شب غلام خان کے علاقے میں دیسی ساخت کے ایک بم دھماکے میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہو گئے۔

شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میرانشاہ کے علاوہ دہشت گردوں کے دو دیگر مضبوط گڑھ کہلائے جانے والے علاقوں بویا اور دیگان سے شدت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور فوج کے مطابق اب میر علی کو صاف کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG