رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے پرواز یمن پہنچ گئی


حکام کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں موجود پاکستانیوں کی تعداد 3000 ہے جن میں سے ایک ہزار لڑائی والے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یمن میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث وہاں محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے ایک خصوصی طیارہ اتوار کو کراچی سے یمن پہنچا۔

اتوار کی صبح قومی فضائی کمپنی (پی آئی اے) کا ایک جمبو 747 طیارہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کا سفر طے کر کے یمن کے شہر حدیدہ پہنچا۔

اس جہاز کے ذریعے لگ بھگ 500 افراد کو وطن واپس پہنچایا جارہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے یمن سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے فوری اور خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد پی آئی اے کو دو طیاروں کو یمن بھیجنے کا انتظام کیا گیا۔

پاکستانی عہدیدار یہ بتا چکے ہیں کہ پاکستانی بحریہ کے دو بحری جہاز بھی یمن سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے یمن جائیں گے جن میں سے ایک خلیج عدن کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں موجود پاکستانیوں کی تعداد 3000 ہے جن میں سے ایک ہزار لڑائی والے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ہفتہ کو 600 پاکستانیوں کو صنعا سے حدیدہ منتقل کیا گیا تھا جب کہ عدن میں بہت سے پاکستانی اب بھی سلامتی کی صورتحال کے باعث محصور ہیں۔ حکام کے بقول جیسے ہی یہاں حالات تھوڑے بہتر ہوں گے انھیں بھی حدیدہ منتقل کر دیا جائے گا۔

وزارت خارجہ یہ کہہ چکی ہے کہ یمن میں سلامتی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے وہاں سے اپنے شہریوں کو پہلے ہی منتقل ہونے کا کہہ دیا تھا لیکن بوجہ بہت سے لوگ یمن سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سینیئر تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لڑائی والے علاقوں میں اکثر صورتحال اس قدر تیزی سے تبدیل ہوتی ہے کہ لوگوں کا وہاں سے انخلا دشوار ہو جاتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یمن سے پاکستانیوں کا انخلا کوئی بحرانی صورت اختیار نہیں کرے گا۔

"یہ صورت حال بالکل اچانک پیدا ہوئی ہے سیاست میں اس طرح کی صورت حال کا پیدا ہونا معمول کی بات ہے لیکن اس صورت حال کی پیش گوئی نہ کی جا سکی ۔ پاکستانی حکومت اور خطے کے باقی ممالک کو بھی اس حساس صورت حال کا ادراک نہیں تھا اور نہ ہی اس کی توقع کی جارہی تھی کی صورت حال اتنی سنگین ہو جائے گی۔ یہاں دس ہزار کے قریب پاکستانی ہیں جن میں سے بہت سارے سعودی عرب جا چکے ہیں، کچھ خلیج کے دوسرے ممالک جا چکے ہیں تو اتنی تشویشناک صورت حال نہیں بنتی اور اس پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا"۔

گزشتہ سال شیعہ حوثی باغیوں نے یمن میں حکومت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جب کہ حالیہ مہینوں میں ان کی پیش قدمی کی وجہ سے اس ملک میں تقریباً خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

اسی ہفتے سعودی عرب نے اپنے عرب اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں کے لیے یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو چلی ہے۔

XS
SM
MD
LG