رسائی کے لنکس

logo-print

لندن کے ہوائی اڈے پر موڈ کو خوشگوار بنانے والے کھانے متعارف


لندن گیٹ ویک ہوائی اڈے پر ریستوران کی طرف سے مسافروں کے خراب موڈ کا علاج غذائیت والے کھانوں سے کیا جا رہا ہے، جسے کھانے کے بعد مسافر خوشی کے ہارمونز کے ساتھ پرواز کر سکیں گے۔

پرواز سے قبل ہوائی اڈے پر چیکنگ کرنے کا عمل اکثر مسافروں کے لیے اکتا دینے والا تجربہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب سکیورٹی چیک کے لیے لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑے یا پھر جہاز کی روانگی میں تاخیر ہو جائے تو ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

تاہم غذا سے تناؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے لندن کے ایک ہوائی اڈے نے اپنے مسافروں کے لیے 'ہیپی میلز' یعنی حقیقتاً موڈ کو خوشگوار بنانے والے کھانوں کا ایک انتخاب متعارف کرایا ہے۔

لندن گیٹ ویک ہوائی اڈے پر ریستوران کی طرف سے مسافروں کے خراب موڈ کا علاج غذائیت والے کھانوں سے کیا جا رہا ہے، جسے کھانے کے بعد مسافر خوشی کے ہارمونز کے ساتھ پرواز کر سکیں گے۔

ہوائی اڈے کے ریستوران پر موڈ اچھا بنانے کے لیے مینو میں خصوصی کھانوں کی ڈشوں کو شامل کیا گیا ہے، جو موڈ کو اچھا بنانے والے جذباتی ہارمونز کی پیداوار کے لیے بہترین ہیں۔

مثال کے طور پر ہوائی اڈے پر 'فرینکی اینڈ بنی از' ریستوران نے مسافروں کے موڈ کو اچھا بنانےکا وعدہ کیا ہے اور سائمن مجھلی کے ساتھ ترش سبز پتوں کی ترکاری کی ڈش مسافروں کے مینو میں شامل کی ہے۔ تاکہ دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرنے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار کو بڑھایا جا سکے اور دوران پرواز آپ پر سکون رہیں۔

گیٹ ویک ہوائی اڈے پر لبنانی کھانوں کے ایک چینی ریستوران نے فلافل اور ترکاری کے ساتھ مسافروں کے لیے ایک ڈش متعارف کرائی ہے تاکہ دوران پرواز خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھا جا سکے۔

ایک برطانوی سائنسی مطالعے کے مطابق ہارمونز ہماری جسمانی اور جذباتی صحت کے بنیادی حصے ہیں، اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دماغ میں خوشی کے جذبات پیدا کرنے والا ہارمون سیروٹونن پیٹ میں جنم لیتا ہے۔ یعنی جو ہم کھاتے ہیں اس کا اثر ہمارے دماغ پر پڑتا ہے جہاں اچھے موڈ اور خوشی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

گیٹ ویک ہوائی اڈے نے ماہر غذائیت جو ٹریورز کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جنھوں نے مسافروں کے لیے غذائیت سے بھرپور نئے ہیپی میلز کا منصوبہ متعارف کرایا ہے۔

ماہر غذائیت ٹریورز نے کہا کہ یہاں موجود کچھ کھانوں کی اشیاء سے آپ کے دماغ میں خوشی پیدا کرنے والے کیمیکل کو مدد ملے گی جیسا کہ اعصابی ریشوں سے رسنے والے کیمیکل سیروٹونن، ڈوپامائن، آکسی ٹوسین اور امینو ایسڈ کا سیرٹونن ہارمون کی تخلیق میں اہم کردار ہے، جسے عام طور پر خوشی کے ہارمونز کا نام دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دماغ میں ان کیمیکلز اور سیروٹونن ہارمون کی کم سطح تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ بالکل اسی طرح مچھلی کے تیل میں پایا جانے والا فیٹی ایسڈ اومیگا تھری کی کمی سے بھی تھکاوٹ اور موڈ میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔

نئے کھانے ایک ماہ کے لیے گیٹ ویک ہوائی اڈے پر تجرباتی طور پر دستیاب ہیں۔

ٹریول ویب سائٹ ائیر لائن ٹرینڈز کے بانی رینمنڈ کھالو نے کہا کہ مسافروں کے لیے غذائیت کے فروغ کی بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے مسافروں کا دن طویل اور تھکا دینے والا ہوتا ہے ایسے میں نئے کھانوں میں سے صحیح قسم کی خوراک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرواز کے دوران غذائیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، جیسا کہ خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے والا ایک جوس 'فلائی فٹ' لگ بھگ پچاس ہوائی اڈوں پر دستیاب ہے یہ تھکاوٹ کو بھی دور کرتا ہے۔

اسی طرح ہوائی اڈوں پر سیروٹونن ہارمون کو بڑھانے کی مشقیں بھی عام ہوتی جا رہی ہیں ،جیسا کہ برسلز ہوائی اڈے اور ایمسٹرڈم کے ایک ہوائی اڈے پر ان ڈور بائیک چلا کر اپنا موبائل فون چارج کیا جاسکتا ہے۔

فٹ ٹو فلائی نامی ویب سائٹ جو مسافروں کو صحت سے متعلق مشورے فراہم کرتی ہے، مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ پرواز کے دوران موڈ کو اچھا کرنے کے لیے بہت سی چیزیں کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً سفر کرنے سے پہلے چھوٹی مشقتیں کی جائیں، دوسرا سفر سے پہلے ہلکا پھلکا کھائیں اور چکنائی والے کھانے اور نیند کی گولیاں ہوائی سفر کے لیے بالکل اچھی نہیں ہیں جو کیبن کے دباؤ کے ساتھ مل کر خون کی گردش کے مسائل پیدا کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG