رسائی کے لنکس

کیا عالمی برادری طالبان کے تبدیلی کے وعدوں پر یقین کرے گی؟


کابل میں احتجاجی مظاہرہ۔

افغانستان میں طالبان نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب اپنی ایک عبوری حکومت بھی قائم کرنے کے بعد نگران کابینہ کے چند ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ عالمی برادری ان کے خود کو تبدیل ہونے کے دعوے پر یقین کرکے کیا انہیں انگیج کرے گی یا ان کو جمہوریت، حقوق انسانی اور خواتین سمیت دوسری اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لئے فی الوقت ان پر دباؤ جاری رکھے گی۔ انہیں خود کو تسلیم کرانے، اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے اور جنگ سے تباہ حال ملک کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو کے لئے عالمی برادری کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔

ہم نے عالمی امور کے جتنے ماہرین سے اب تک گفتگو کی ہے ان میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ عالمی برادری کے پاس اس سلسلے میں کچھ زیادہ متبادل راستے موجود نہیں ہیں۔

لارڈ نذیر احمد برطانیہ کے ایک تجربہ کار سیاستداں ہیں اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلا شبہ بعض حلقے یہ چاہیں گے کہ طالبان پر دباؤ رکھا جائے۔

بقول ان کے، آج کے حقائق اس بات کے متقاضی ہیں کہ انکے ساتھ مکالمہ جاری رکھا جائے اور انہیں مسلسل انگیج رکھا جائے، کیونکہ ساری دنیا کی یہ خواہش ہے کہ افغانستان میں نئے دہشت گرد گروپ جنم نہ لینے پائیں اور جو گروپ وہاں پہلے سے موجود ہیں ان کو بھی غیر فعال بنایا جائے اور اسکے لئے طالبان کا تعاون اور اس کام میں انکی مدد نا گزیر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کام طالبان کے ساتھ انگیجمنٹ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

لارڈ نذیر نے کہا کہ مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ دنیا کو دکھائیں کہ جن طالبان کے بارے میں اتنا کچھ کہہ چکے ہیں اب ان ہی کے ساتھ فوری طور پر بات چیت بھی کر رہے ہیں، لیکن آخر کار ہونا یہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض وقت سیاست میں سخت باتیں کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن پھر بتدریج راہیں بھی نکالنی پڑتی ہیں اور یہ ہی بات افغانستان کے سلسلے میں بھی ہوتی نظر آرہی ہے۔

جہانگیر خٹک عالمی امور کے ایک ممتاز تجزیہ کار ہیں اور نیو یارک کی سٹی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بارے میں انکا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ طالبان کا بھی ہے۔ لیکن اس سے بڑا سوال افغان عوام کا ہے۔ ایک ملک جس کی آبادی 38 ملین سے کچھ زیادہ ہے جس میں آدھے سے کچھ کم لوگ ایسے ہیں جو بنیادی انسانی ضروریات کی چیزوں سے محروم ہیں، جہان خشک سالی عروج پر ہے اور جہان چالیس فیصد فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جہاں کووڈ کے خلاف صرف پانچ فیصد لوگوں کو ویکسین لگ سکی ہے، وہاں پر صرف ایک حکومت کو دیکھنا اور اسکے حوالے سے کسی بھی قسم کی پالیسی سازی کرنا دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔

بقول ان کے، اسی لئے جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے امریکہ سمیت کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا کہ طالبان کے ساتھ قطع تعلق کیا جائے، کیونکہ اس صورت میں خطرہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں زیادہ مضبوطی پکڑ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق مختلف دہشت گرد گروپوں کے ہزاروں مسلح جنگجو آج بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان حالات میں اگر آپ قطع تعلق کریں گے اور طالبان کی حکومت کو الگ تھلگ کر دیں گے تو وہ حکومت جس پر پہلے ہی شک ہے کہ اسکے بہت سےدہشت گروپوں سے تعلقات ہیں وہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور اس سے علاقائی اور عالمی سیکیورٹی کے لئے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ افغانستان ایک بڑے انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں دنیا کو پہلے ہی آگاہ کر چکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا کو اسوقت ایک امتحان درپیش ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ اسکے علاوہ اور کوئی متبادل ہے کہ وہ طالبان کو انگیج کئے بغیر افغانستان میں کسی بہتری کی امید رکھ سکیں۔ یہ مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ مجبوری انسانی لحاظ سے ہے اور ضرورت اسٹریٹیجک لحاظ سے؛ کیونکہ انہیں داعش جیسے گروپوں کو ختم کرنے کے لئے طالبان کی مدد درکار ہو گی۔

ایران افغانستان کا پڑوسی ملک ہے جس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ ایران میں اس حوالے سے کیا سوچ پائی جاتی ہے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں مقیم صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر راشد نقوی نے کہا کہ ''ظاہر ہے کہ اسوقت افغانستان کے پڑوسی ممالک کے مفادات یا تحفظات موجود ہیں۔ وہ ایک نئی صورت حال سے دو چار ہیں''۔

بقول ان کے، اس اعتبار سے ایران کی خواہش اور کوشش ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہو جس سے پورے خطے میں سیکیورٹی اور سلامتی کی صورت حال بہتر رہے۔ اسی لئے ایران نے طالبان کو انگیج رکھا ہے اور اسوقت بھی سفارتی سرگرمیاں اس حوالے سے جاری ہیں۔ ہمسایہ ممالک کا ایک آن لائن اجلاس بھی ہوا ہے اور ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ کا بھی اجلاس ایک آدھ دن میں ہونے والا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ایران اس بارے میں کافی فعال ہے اور انہوں نے کہا کہ آئندہ کے حالات کا انحصار خود طالبان کے رویے پر ہو گا۔

آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر طالبان نے گزشتہ بیس برسوں کے تجربے سے واقعی کوئی سبق سیکھا ہے اور وہ اپنے وعدوں کا پاس کرتے ہیں تو بلا شبہ حالات بہتری کی جانب مائل ہونگے؛ ورنہ بصورت دیگر کیا ہو گا، یہ فیصلہ وقت کرے گا۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:15 0:00

XS
SM
MD
LG