رسائی کے لنکس

logo-print

'دیکھنے تو جنت گئے تھے مگر دوزخ کا دیدار ہوا'


يونس زرگر آٹھ جولائی کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے تھے لیکن جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشیدہ حالات کے پیش نظر اُنہیں مزید کچھ روز وہاں قیام کرنا پڑا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 70 سالہ رہائشی محمد يونس زرگر کے گھر ميں گزشتہ ماہ جشن کا سماں تھا جب وہ بھارت کے زيرِ انتظام کشمير سے بخيريت ضلع کوٹلی ميں اپنے گھر واپس پہنچے۔ جہاں اُن کے اہل خانہ نے اُن کا پرجوش استقبال کیا۔

ايسا شاید ہی اس علاقے ميں پہلے کبھی ہوا ہو۔ لائن آف کنٹرول سے اکثر لوگ آتے جاتے رہتے ہيں ليکن اس دفعہ نوعيت کچھ خاص تھی۔

يونس زرگر آٹھ جولائی کو تيتری نوٹ کراسنگ کے ذريعے اپنے عزيز و اقارب سے ملنے بيٹے، بہو اور پوتوں کے ہمراہ مينڈھر کے علاقے پٹھانہ تير گئے تھے۔ جس کا فاصلہ زيرو پوائنٹ سے تقریباً تين گھنٹے کا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں قیام کے لیے اُنہیں 28 دن کا ویزا ملا تھا لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد کشیدہ حالات کے پیش نظر اُنہیں مزید کچھ روز وہاں قیام کرنا پڑا۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے بتايا کہ پانچ اگست کو وادی میں اچانک حالات بالکل بدل گئے۔ یکدم پوری وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور تمام علاقہ بند ہوگیا اور لوگوں کی آمد و رفت محدود ہوکر رہ گئی جس کی وجہ سے وہ بھی وہیں پھنس گئے۔

يونس زرگر آٹھ جولائی کو تيتری نوٹ کراسنگ کے ذريعے اپنے عزيز و اقارب سے ملنے بچوں کے ہمراہ مينڈھر کے علاقے پٹھانہ تير گئے تھے۔ (فائل فوٹو)
يونس زرگر آٹھ جولائی کو تيتری نوٹ کراسنگ کے ذريعے اپنے عزيز و اقارب سے ملنے بچوں کے ہمراہ مينڈھر کے علاقے پٹھانہ تير گئے تھے۔ (فائل فوٹو)

یونس زرگر کے بقول وادی میں ہرطرف فوج تعینات تھی۔ ٹيلی وژن، انٹر نيٹ، موبائل سروس سب معطل ہو چکے تھے اور اُنہیں فکر تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو کس طرح اپنی خیریت کی اطلاع دیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہر ميں کرفيو کے خلاف شاید مظاہرے ہوئے۔ چونکہ وہ شہر سے دور ایک دیہات ميں مقیم تھے۔ وہاں کسی نے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کيا۔

یونس زرگر کے بقول وہ اپنے گھر واپس جانے کے لیے دو مرتبہ سرحد تک آئے ليکن بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اُنہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں ملی۔

يونس زرگر آٹھ جولائی کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے تھے لیکن جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشیدہ حالات کے پیش نظر اُنہیں مزید کچھ روز وہاں قیام کرنا پڑا۔ (فائل فوٹو)
يونس زرگر آٹھ جولائی کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے تھے لیکن جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشیدہ حالات کے پیش نظر اُنہیں مزید کچھ روز وہاں قیام کرنا پڑا۔ (فائل فوٹو)

يونس زرگر کو پٹھانہ تير ميں رہتے ہوئے حالات کی نزاکت کا احساس نہیں تھا ليکن پاکستان واپسی پر یہ حقيقت عياں ہوئی کہ حالات کس قدر گھمبير ہيں۔ وہ سرحد پار اپنے رشتے داروں سے اس حالیہ ملاقات کو آخری تصور کرتے ہیں۔

پانچ اگست کے بعد سے اب تک 48 افراد سرحد عبور کرچکے ہیں۔ ان ميں 42 پاکستان کے زير انتظام کشمير جبکہ چھ افراد بھارت کے زير انتظام کشمير گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پيش نظر سرحد پر ہر قسم کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے جبکہ تيتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ ہر طرح کی تجارت اور آمد رفت کے لیے بھی بند ہے۔

سردار محمد جاويد پاکستان کے زيرِ انتظام کشمير ميں بطور صحافی ايک مقامی اخبار سے منسلک ہيں۔ وہ تتہ پانی کے رہائشی ہيں جو لائن آف کنٹرول سے 10 کلو ميٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں ميں بھارتی جارحيت پر بہت غصہ ہے اور اسی لیے اب يہاں کے مقامی لوگوں نے بھارت کے زير انتظام کشمير جانا چھوڑ ديا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پيش نظر سرحد پر ہر قسم کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پيش نظر سرحد پر ہر قسم کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ پیر دو ستمبر تک يہاں سے کوئی بھی وہاں نہیں گيا جبکہ وہاں رہ جانے والے دو افراد واپس آئے ہیں۔

ان کے بقول لوگ اپنے عزيز و اقارب کے بارے ميں بہت فکر مند ہيں اور بار، بار ان سے رابطے کی کوشش کرتے ہيں۔

قاضی جمال الدين کا تعلق جھنگ سے ہے۔ وہ جولائی کے وسط ميں خاص طور سے اپنی 80 سالہ بہن سے ملنے پہلی بار ضلع پونچھ گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گئے تو جنت کی تلاش ميں تھے ليکن دوزخ کا ديدار کر کے واپس آئے ہیں۔

پچپن سالہ قاضی جمال الدين وہاں گزارے دنوں کا احوال کچھ يوں بيان کرتے ہيں کہ عيد الاضحیٰ کے موقع پر شہر کی تمام بڑی مساجد عوام کے لیے بند کردی گئی تھيں جبکہ جمعرات کو پولیس کی جانب سے اعلان ہوا کہ جمعے کی نماز کے لیے کوئی شخص گھر سے باہر نہ نکلے۔

وائس آف امريکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتايا کہ کشمير کی خصوصی حيثيت ختم ہونے کے بعد لوگوں ميں خوف وہراس پيدا ہو گيا تھا جس کے سبب وہ کسی بھی جمعے کی نماز جامعہ مسجد میں نہ پڑھ سکے۔

پچپن سالہ قاضی جمال الدين وہاں گزارے دنوں کا احوال کچھ يوں بيان کرتے ہيں کہ عيد الاضحیٰ کے موقع پر شہر کی تمام بڑی مساجد عوام کے لیے بند کردی گئی تھيں۔ (فائل فوٹو)
پچپن سالہ قاضی جمال الدين وہاں گزارے دنوں کا احوال کچھ يوں بيان کرتے ہيں کہ عيد الاضحیٰ کے موقع پر شہر کی تمام بڑی مساجد عوام کے لیے بند کردی گئی تھيں۔ (فائل فوٹو)

جمال الدین نے بتايا کہ کرفيو سے نہ صرف عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ مريضوں کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں اور غذائی قلت تيزی سے بڑھتی جارہی ہے۔

قاضی جمال الدین نے کہا کہ انہوں نے دو مرتبہ واپس آنا چاہا مگر سرحد پر موجود بھارتیوں نے ہمیں یہ غلط اطلاع دیتے ہوئے واپس بھیج دیا کہ پاکستان نے سرحد بند کر دی ہے۔

چھبیس اگست کو قاضی جمال نے اپنے ديگر ساتھيوں کے ہمراہ لائن آف کنٹرول عبور کی اور اس سفر کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ تتری نوٹ کراس کر کے خدا کا شکريہ ادا کيا اور کہا کہ آج صحيح معنوں ميں احساس ہوا ہے کہ آزادی کيا ہوتی ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ وہاں ايک دن بھی چين سے نہیں گزارا بلکہ ہر دن ايک نئی مصيبت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

قاضی جمال الدین نے اس خواہش کا اظہار کيا کہ منقسم خاندان کی آمد و رفت جاری رہنی چاہیے، اس سے انسانی رشتوں ميں محبت بڑھے گی ورنہ يہ رشتے آنے والے وقتوں ميں بالکل ختم ہوجائيں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG