رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے درمیان سپریم کورٹ میں ملاقات


سپریم کورٹ، فائل فوٹو

علی رانا

اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے سپریم کورٹ میں ملاقات ہوئی۔

وزیراعظم بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ پہنچے جہاں چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے ججز گیٹ پر ان کا استقبال کیا۔

اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس ملاقات میں آئینی اداروں کے درمیان بہتر رابطوں پر تبادلہ خیالات ہوا۔

گفتگو کے دوران انتخابات، نگران سیٹ اپ، حلقہ بندیوں اور دیگر آئینی اور قانونی معاملات موضوع بنے۔

اس سے قبل ملاقات کی تصدیق ترجمان سپریم کورٹ نے اپنی پریس ریلیز میں بھی کی جس میں بتایا گیا تھا کہ آج شام وزیراعظم چیف جسٹس ثاقب نثار سے سپریم کورٹ عمارت میں ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات ہے اور یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عدلیہ اور وزیراعظم کی جماعت کے درمیان کشیدگی کی فضا ہے اور دو وفاقی وزیروں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے ملاقات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاہے تو بنان جاری کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات وزیر اعظم کی درخواست پر ہوئی۔ چیف جسٹس تک یہ درخواست اٹارنی جنرل کے توسط سے بھیجی گئی۔

ملاقات جیف جسٹس کے چیمبر میں خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ ملاقات میں حکومت کی طرف سے عدالتی نظام میں بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے زیر التوا مقدمات کی وجہ سے ایف بی آر کو درپش مسائل کا ذکر کیا۔ چیف جسٹس نے مفاد عامہ کے مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا۔

حکومت مخالف جماعتوں نے اس ملاقات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جیونیوز پر اپنے تجزیے میں حامد میر نے اس ملاقات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیانیے کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے حکمران جماعت اپنے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG