رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کیلیے کمیشن قائم


سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس جاوید اقبال، کمیشن کے سربراہ

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضآ گیلانی نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی پاکستانی حدود میں موجودگی اور 2 مئی کو ایبٹ آباد میں ہونے والے امریکی آپریشن میں ان کی ہلاکت کے معاملہ کی تحقیقات کیلیے انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

منگل کی شب وزیرِاعظم ہائوس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پانچ رکنی کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کرینگے۔

کمیشن کے ارکان میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم، سابق لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد، پولیس کے سابق آئی جی عباس خان اور سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی وفاقی سیکریٹری نرگس سیٹھی کو کمیشن کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

تاہم اعلامیہ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کمیشن کتنے عرصہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کیلیے ایک آزاد قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

13 مئی کو ہونے والے پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ 'ان کیمرہ' اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مجوزہ کمیشن کی تشکیل وزیرِاعظم کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے کی جائے جو واقعہ کی مکمل تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے۔

دو مئی کی شب پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے خفیہ کاروائی کرکے وہاں ایک مکان میں روپوش القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا اور ان کی لاش اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

بن لادن کی ہلاکت کیلیے پاکستانی سرزمین پر کی جانے والی یک طرفہ امریکی کاروائی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جنہیں معمول کی سطح پر لانے کیلیے دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مقامی ذرائعِ ابلاغ سےگفتگو کرتے ہوئےسپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی صدرعاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ کمیشن کےسربراہ کی تقرری ’غیرقانونی‘ ہے، کیونکہ اِس معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چودھری سےمشاورت نہیں کی گئی۔

عاصمہ جہانگیرکا کہنا تھا کہ اُن کی چیف جسٹس افتخار چودھری سے اِس موضوع پر بات ہوئی ہے اور اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں آگاہ نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG