رسائی کے لنکس

کاش 500 بدعنوانوں کو جیل میں ڈال سکتا: عمران خان


پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان دو روزے دورے پر چین میں موجود ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بدعنوانی کو سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو فروغ دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سرخ فیتہ ہے جو اُن کے بقول، بدعنوانی کا باعث بنتا ہے۔

عمران خان نے یہ بات منگل کو بیجنگ میں بین الاقوامی تجارت کے فروغ سے متعلق چینی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اُس موقع پر عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف 'بھرپور مہم' کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران چین میں وزارتی عہدوں کے حامل 400 افراد کو بدعنوانی کے جرم میں سزا سنانے کے بعد جیل میں بند کر دیا ہے۔"

عمران خان نے خواہش کا اظہار کیا کہ " کاش وہ چین کے صدر کی طرح پاکستان میں 500 بدعنوان افراد کو جیل میں ڈال سکتے۔"

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ان ملکوں میں سرمایہ کاری کا فروغ ہو سکتا ہے جہاں بدعنوانی کم ہوتی ہے۔

اُن کے بقول، ان کی حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی خاطر کوشاں ہے۔ اسی سلسلے میں سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کیا جا سکے۔

عمران خان نے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔
عمران خان نے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ انہوں نے چین سے ایک اور بات سیکھی ہے کہ کس طرح غربت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اُن کے بقول، گزشتہ 30 برسوں میں چین 70 کروڑ افراد کو خط غربت سے اوپر لایا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان چین کے دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کو بیجنگ پہنچے ہیں۔ یہ ان کا چین کا تیسرا دورہ ہے۔

اس دورے کے دوران انہوں نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے بھی ملاقات کی۔ وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

بیجنگ کے دورے میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت کئی دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے بیجنگ پہنچنے سے پہلے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ چین پہنچ چکے تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پیر کو اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ جنرل باجوہ بیجنگ کے سرکاری دورے میں چین کی فوجی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جنرل باجوہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی وزیرِ اعظم لی کی چیانگ سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی شریک ہوں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمتوں کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس دورے سے پاکستان اور چین کے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

وزیرِ اعظم عمران خان چین کا دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب خطے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ جن میں امریکہ، طالبان امن مذاکرات کی معطلی اور بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے جیسے اہم واقعات بھی شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم چینی قیادت سے اپنی ملاقات میں خطے کی صورت حال بشمول بھارت کی طرف سے جموں و کمشیر سے متعلق پانچ اگست کے اقدامات کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کی صورت حال پر بات کریں گے۔

عمران خان چینی قیادت کو پاکستانی حکومت کی طرف سے چین پاکستان راہدری منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنے سے متعلق حکومتی فیصلوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

عمران خان چینی قیادت سے سی پیک منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
عمران خان چینی قیادت سے سی پیک منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ چین کے موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی بیجنگ میں موجودگی کو تجزیہ کار اہم قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ سی پیک روٹ کی سیکیورٹی کے لیے فوج کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ان کے بقول پاکستانی فوج کی بطور ادارہ ایسی حیثیت ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے اور چین اس سے آگاہ ہے۔

طلعت مسعود کے مطابق چین کی یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کی فوج سے اچھے تعلقات رکھے جائیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور صحافی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کا قریبی حلیف ہے اور خطے میں جو بھی تبدیلیاں اس وقت رونما ہو رہی ہیں اس پر دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔

اگرچہ افغانستان کی صورت حال پر بھی بات ہو گی۔ لیکن، اُن کے بقول، بات چیت کا محور سی پیک کے منصوبے اور بھارت کی طرف سے کشمیر پر کیے گئے حالیہ اقدامات پر تبادلہ خیال بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر پر کیے گئے حالیہ اقدامات کی وجہ سے اسلام آباد اور دہلی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک پاکستان، بھارت باہمی معاملات پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

تاہم، بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور اس معاملے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی پر آمادہ نہیں ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے امریکہ کے علاوہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کرا سکتا ہے، خواہ یہ بات چیت بیک ڈور چینل ہی کیوں نا ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG