رسائی کے لنکس

logo-print

سی پیک کے تحت ریلوے کا 'ایم ایل ون' منصوبہ تاخیر کا شکار کیوں؟


ایم ایل ون منصوبہ سی پیک منصوبے کا حصہ ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں ریلوے کا جدید نظام متعارف کرانے کے لیے ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں شامل تھا۔ لیکن اطلاعات کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن اور وزارتِ ریلوے کے درمیان بعض امور پر اتفاق نہ ہونے کے سبب ابھی تک اس منصوبے پر کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔

اس منصوبے کے تحت آٹھ ارب ڈالر کی لاگت سے کراچی سے پشاور تک تیز رفتار ٹرینیں چلانے کے لیے نیا ریلوے ٹریک بچھایا جانا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی فنانسنگ(مالیاتی) معاملات تاحال چین کے ساتھ طے نہیں پا سکے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سی پیک پر کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم ایل ون پر عمل درآمد میں تاخیری حربوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد کمیٹی نے مالی معاونت کے لیے چین سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی منصوبہ بندی کمیشن کو منصوبے کے پہلے پیکج کا پی سی ون جلد منظور کرنے کی ہدایات دیں، جب کہ ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن کی سربراہی میں ایک مالیاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ایم ایل ون منصوبے کے مالیاتی امور اور دستیاب وسائل کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کہتے ہیں کہ ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کے منصوبے ایم ایل ون کے مالیاتی امور طے کیے جارہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس نومبر میں ہو گا، جس میں اس منصوبے میں پیش رفت ہو گی اور جلد ہی پاکستان اور چین کے درمیان اس پر معاہدہ طے پا جائے گا۔

منصوبے کے تحت پشاور سے لے کر کراچی تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت پشاور سے لے کر کراچی تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

ایم ایل ون میں تاخیر کیوں؟

تیز رفتار ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے نئی ریلوے لائنیں بچھانے کے اس منصوبے کی دستاویزات کے مطابق ابتدائی جزیات طے ہونے کے بعد رواں مالی سال کے بجٹ میں فیز ون کے لیے رقم بھی مختص کی جانا تھی۔

چار سال سے التوا کا شکار اس منصوبے کا پی سی ون تاحال منظور نہیں ہو سکا۔

وفاقی سیکریٹری برائے منصوبہ بندی ظفر حسن کہتے ہیں کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایم ایل ون کی تھرڈ پارٹی توثیق چاہتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے نے اس سے قبل اتنا بڑا منصوبہ نہیں کیا اس لیے چاہتے ہیں کہ منصوبے کے تمام امور کا آزادانہ جائزہ لے لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون سی پیک کا اہم حصہ ہے اور پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں یہ سرفہرست ہو گا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی غیرجانبدار کنسلٹنٹس کے ذریعے فزیبلٹی اور ڈیزائن اسٹڈی کرائی جا چکی ہے. لہذٰا، منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے تھرڈ پارٹی توثیق کی تجویز غیر ضروری اور منصوبے کو التوا میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس منصوبے سے متعلقہ ایک ریلوے افسر کا کہنا تھا اگر یہ منصوبہ مشترکہ تعاون کمیٹی کے آئندہ اجلاس سے منظور نہ ہوسکا تو پھر یہ خواب ہی رہے گا۔

ماہرین کے مطابق، آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی ایم ایل ون جیسے بڑے منصوبے شروع کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی قرضے تیزی سے نہیں بڑھنے چاہئیں۔

سیکرٹری منصوبہ بندی ظفر حسن کہتے ہیں کہ ایم ایل ون 8 اشاریہ 2 ارب ڈالر لاگت کا منصوبہ ہے، جسے شروع کرنے سے قبل پاکستان کی مالیاتی صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ، منصوبہ بندی اور اقتصادی امور ڈویژن چینی حکام کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس ضمن میں قرض کی نوعیت، شرح سود اور واپسی کی شرائط کیا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں کی حد اس منصوبے کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔ تاہم، اگر ضروری ہوا تو عارضی حکم نامے یعنی ایس آر او کے ذریعے اس میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ 2005 کے مطابق، پاکستان اپنی جی ڈی پی کے 60 فی صد سے زائد غیر ملکی قرضے نہیں لے سکتا ہے۔

عالمی ادارے اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ چین کی جانب سے پاکستان میں جاری سی پیک کے منصوبوں کے قرض کی واپسی پاکستان کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین سے قرض کی آسان شرائط کے لیے بات چیت جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق چین سے قرض کی آسان شرائط کے لیے بات چیت جاری ہے۔

ایم ایل ون ہے کیا؟

ایم ایل ون یعنی مرکزی راه آهن خط کراچی-لاہور-پشاور ڈبل ریلوے ٹریک کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جس کے تحت 1872 کلو میٹر پر محیط پرانے ٹریک کی بحالی اور اسے اپ گریڈ کیا جائے گا اور پرانے ٹریک کے ساتھ نئی پٹری بھی بچھائی جائے گی۔

اس کے تحت ٹریک کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ ریلوے ٹریک کے اطراف باڑ بھی لگائی جائے گی۔ ریلوے کے 2700 پلوں اور کراسنگز کی تعمیر و مرمت بھی منصوبے میں شامل ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے ٹرینوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی اور ٹرین کی اوسط رفتار ایک سو بیس سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی، جو کہ اس وقت اوسطاً ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ یعنی مسافر آدھے سے بھی کم وقت میں اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔

مکمل منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 8.2 ارب امریکی ڈالر ہے جبکہ پیکج ون کا تخمینہ 2 ارب 38 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

پیکج ون کے تحت نوابشاہ سے روہڑی سیکشن 183 کلومیٹر، لالہ موسیٰ سے راولپنڈی 157 کلومیٹر اور پشاور سے نوشہرہ 42 کلومیٹر کی ریلوے پٹری کو دو رویہ کیا جائے گا، جب کہ ریلوے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے والٹن ریلوے اکیڈمی کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

پیکج ٹو کے تحت ملتان سے لاہور 339 کلومیٹر، لاہور سے لالہ موسٰی 132 کلومیٹر، کراچی سے حیدر آباد 182 کلو میٹر ریلوے ٹریک کو دو رویہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حویلیاں ڈرائی پورٹ کی تعمیر بھی اس کا حصہ ہے۔

پیکج تھری میں 132 کلومیٹر کی نوشہرہ راولپنڈی اور 556 کلومیٹر کے حیدر آباد سے ملتان سیکشن کے ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق منصوبہ مکمل ہو گیا تو ڈیڑھ لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق منصوبہ مکمل ہو گیا تو ڈیڑھ لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔

ایم ایل ون کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

حکام کے مطابق، آٹھ اشاریہ 2 ارب امریکی ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کی تمام تر رقم چین کی جانب سے آسان قرضوں کی صورت میں فراہم کی جائے گی۔

حکام کا ماننا ہے کہ چین سے آسان شرائط پر قرضے کے حصول پر اتفاق ہوا تھا اور وہ پرامید ہیں کہ دو فی صد شرح سود پر قرض ملے گا، جسے 20 سال کی مدت میں واپس کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد دعویٰ کر چکے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔

ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ایم ایل ون اہم منصوبہ ہے اور اس کی تکمیل سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ریلوے کی مال برداری کی استعداد بڑھے گی جس کے نتیجے میں پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں کمی آئے گی۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی کم درآمد سے غیر ملکی زرمبادلہ پر دباؤ کم ہو گا اور ادائیگیوں کا توازن جس کا اکثر بحران رہتا ہے بھی بہتر ہو گا۔ تاہم، ان کے بقول، یہ اسی صورت ہو سکے گا اگر چین کے ساتھ قرضے اور براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے شرائط آسان رکھی جائیں گی بصورت دیگر لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG