رسائی کے لنکس

logo-print

معیشت کی بحالی کے لیے ماہرین کا مشاورتی پینل قائم


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کی بحالی کیلئے معروف اقتصادی ماہرین کا ایک مشاورتی پینل تشکیل دے دیا ہے جس میں ملکی ماہرین کے علاوہ غیر ملکی اقتصادی ماہرین بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی نئی حکومت کو سنگین نوعیت کے اقتصادی مسائل کا سامنا ہے ۔ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور حالیہ برسوں میں ملکی برآمدات میں کمی واقع ہوئی جبکہ درآمدات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گردشی قرضوں میں شدت سے اضافہ ہو گیا ہے اور اب یہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

یوں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بظاہر اس تذبذب میں دکھائی دیتی ہے کہ آیا معاشی بحران سے نکلنے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی یعنی آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائے یا پھر چین سے مدد حاصل کرنے سمیت دیگر ذرائع کا انتخاب کیا جائے۔

نو تشکیل شدہ معاشی ماہرین کے پینل کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے تاکہ ماہرین سے بہترین ممکن مشورے حاصل کر کے اعلیٰ ترین سطح پر فوری فیصلے کئے جا سکیں۔ ماضی میں تشکیل دئے گئے ایسے پینلز کی سربراہی وزیر خزانہ کرتے تھے اور اُن کے اجلاس کبھی کبھار ہی ہوتے تھے۔ اُن کی طرف سے دئے جانے والے مشوروں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور وہ محض بحیث و مباحثے کے فورم ہی رہے۔ تاہم خود وزیر اعظم کا نئے مشاورتی پینل کی سربراہی کرنے کا فیصلہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ شاید اس بار اس مشاورتی پینل کی تجاویز سے فائدہ اُٹھایا جائے گا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاشی ماہرین کے پینل کا پہلا اجلاس جلد بلائے جانے کی توقع ہے۔

معاشی ماہرین کے اس 18 رکنی پینل میں 7 سرکاری عہدیدار ہیں جبکہ باقی 11 نجی شعبے سے لیے گئے ہیں۔ نجی شعبے سے لیے جانے والے غیر ملکی ارکان میں امریکہ کی پرنسٹن ہونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے عاطف میاں، ہارورڈ کینیڈی سکول کے پروفیسر عاصم اعجاز خواجہ اور یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر عمران رسول نمایاں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے پینل سے کہا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر حکومت کو مشورہ دیں کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوائی گئی رقوم کو کس طرح پاکستان واپس لایا جائے۔

معاشی ماہرین کے اس مشاورتی پینل میں نجی شعبے سے لیے گئے ارکان یہ ہیں:

۱۔ ڈاکٹر فرخ اقبال، ڈین اور ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے)

2 ۔ ڈاکٹر اشفاق حسن خان، پرنسپل اور ڈین، سکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینیٹیز، نیشنل یونیورسٹی آف سائینسز اینڈ ٹکنالوجی (نسٹ)

3 ۔ ڈاکٹر اعجاز نبی، پروفیسر آف اکنامکس، لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ ساینسز

4 ۔ ڈاکٹر عابد قیوم سلیری، ایگذیکٹو ڈائریکٹر، سسٹین ایبل ممبر ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)

5 ۔ ڈاکٹر اسد زمان، وائس چانسلر، پاکستان انسٹی ٹیوٹ ممبر آف ڈویلپمنٹ اکنامکس

6 ۔ ڈاکٹر نوید حامد، پروفیسر آف اکنامکس، لاہور ممبر سکول آف اکنامکس

7 ۔ سید سلیم رضا، سابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان

8 ۔ ثاقب شیرانی، ماہر معاشیات

9 ۔ ڈاکٹر عاطف میاں، پرنسٹن یونیورسٹی

10 ۔ ڈاکٹرعاصم اعجاز خواجہ، ہارورڈ یونیورسٹی

11 ۔ ڈاکٹر عمران رسول، یونیورسٹی کالج، لندن

سرکاری ارکان

1 ۔ اسد عمر، وزیر خزانہ، ریوینیو اور اقتصادی امور

2 ۔ خسرو بختیار، وزیر برائے پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور اصلاحات ڈویژن

3 ۔ عارف احمد خان، سیکٹری خزانہ

4 ۔ طارق باجوا، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان

5 ۔ ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر برائے انسٹی ٹیوشنل ریفارمز

6 ۔ عبدالرزاق داؤد، مشیر تجارت

7 ۔ ڈپٹی چیئرمین آف پلاننگ کمشن

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG