رسائی کے لنکس

کالعدم فلاحی تنظیموں کو سرکاری کنٹرول میں لیا جائے گا: شاہد خاقان


پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

رواں ماہ ہی وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ، لشکرطیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم جماعت الدعوۃ کے زیرِ انتظام چلنے والی خیراتی تنظیموں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے منصوبے پر عمل درآمد کرے گی۔

لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور نہ کرے۔

خبررساں ادارے 'رائٹرز' سے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی کا جماعت الدعوۃ اور اس کے زیرِ انتظام چلنے والے خیراتی ادارے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے بارے میں کہنا تھا کہ تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور اُن اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے لیے پرعزم ہیں جن پر اقوام متحدہ نے تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔

تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

دفاعی اُمور کے تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اقدام ضروری ہے۔

’’میرے خیال میں جو تنظیمیں ہیں، جیسے لشکر طیبہ کی تنظیم کہا جاتا ہے، جب بند کی جائیں گی تو ظاہر ہے کہ مزاحمت تو تھوڑی بہت ہو گی لیکن ان لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ پاکستان اس وقت بڑے دباؤ میں ہے کہ ان کو اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی برداری کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ بطور ایک ذمہ دار ملک کے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔

’’صرف پاکستان نام کے لیے ان پر پابندی لگائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بڑا ضروری ہے پاکستان کے لیے اگر اپنا وہ امیج بہتر کرنا چاہتا ہے دنیا کے سامنے اور یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم واقعی میں سنجیدہ ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان تنظیموں کو پاکستان میں کسی صورت میں کام کرنے نہیں دیا جائے گا۔‘‘

جماعت الدعوۃ کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ اگر اس کی فلاحی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی تو وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ اسلام آباد کے ایک تھانے میں فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا کہ اس تنظیم نے پابندی کے باوجود چندہ اکٹھا کرنے کے لیے بینر آویزاں کیا۔

رواں ماہ ہی وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ، لشکرطیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے اقوامِ متحدہ کی واچ لسٹ میں شامل جماعت الدعوة سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر رکھا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

بھارت اپنے شہر ممبئی میں 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام حافظ سعید پر عائد کرتا ہے۔

حافظ سعید جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں اور ان دونوں تنظیموں کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی اور امریکہ، دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔

حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ انہیں تقریباً کئی ماہ کی نظر بندی کے بعد گزشتہ نومبر میں عدالت کے حکم پر رہا کیا گیا جس پر امریکہ اور بھارت کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔

امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے رائٹرز سے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹوئٹ کو بھی مسترد کیا جس میں پاکستان پر امریکہ کو ’’جھوٹ اور دھوکہ‘‘ دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک ٹیم رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تنظیموں بشمول لشکرِ طیبہ اور افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اپنے انٹرویو میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی طرح کی تعزیرات دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں کی جانے والی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG