رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون میں بہتری آئی: نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف نے افغان سفیر سے ملاقات میں اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان میں امن مذاکرات اور مصالحت کی کوششوں میں تیزی آئے گی اور یہ عمل جلد مکمل ہو گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پڑوسی ملک افغانستان سے تعلقات خاص طور پر سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اُنھوں نے یہ بات پیر کو افغان سفیر جانان موسیٰ زئی سے اسلام آباد میں ملاقات میں کہی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا حالیہ دورہ کابل دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے افغان سفیر سے ملاقات میں اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان میں امن مذاکرات اور مصالحت کی کوششوں میں تیزی آئے گی اور یہ عمل جلد مکمل ہو گا۔

افغان سفیر نے وزیراعظم نواز شریف کو بتایا کہ امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے افغانستان میں مکمل یکجہتی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی حکومت اور فوج یہ کہتی آئی ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں مصالحت کے عمل کا ہمیشہ سے حامی رہا ہے اور اس عمل کی کامیابی میں ہر ممکن معاونت کے لیے بھی تیار ہے۔

گزشتہ ماہ ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کر کے صدر اشرف غنی اور ملک کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ان ملاقات میں افغان طالبان کو افغانستان کی حکومت سے مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے میں پاکستانی فوج نے کردار ادا کیا۔

تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے ان خبروں پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا البتہ فوج کے ایک حالیہ بیان میں یہ کہا گیا کہ طویل المدت امن کے لیے افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مصالحت اور استحکام کا معاملہ افغانستان سے متعلق ہونے والی بات چیت میں ہمیشہ زیر بحث آتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا ہنگامی دورہ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کا موقف ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں رپورش کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے کی تھی۔

اس حملے میں ملوث عناصر کے خلاف پاکستان کے علاوہ سرحد پار افغان فورسز نے بھی اپنی جانب کارروائیاں کی ہیں۔

XS
SM
MD
LG