رسائی کے لنکس

پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی 30 میں نون لیگ کی کامیابی


ووٹر قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یاسر سندھو نے 42 ہزار 736 ووٹ لے کر فتح حاصل کرلی جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار راؤ ساجد 23 ہزار 586 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 30 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ( ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یاسر سندھو نے نمایاں فرق سے کامیابی حاصل کرلی۔

سرگودھا کے حلقہ پی پی 30 کے ضمنی انتخاب میں قائم 137 پولنگ اسٹیشنوں کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے جس کے مطابق ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یاسر سندھو نے 42 ہزار 736 ووٹ لے کر فتح حاصل کرلی جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار راؤ ساجد 23 ہزار 586 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

ضمنی انتخاب کے دوران پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہا۔ پولنگ اسٹیشنز پر پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات رہے جب کہ حلقے کے اطراف میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حلقہ میں کل 137 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے جہاں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جب کہ 19 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قراردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ حلقہ پی پی 30 میں ووٹرزکی کل تعداد 1 لاکھ 73 ہزار 919 ہےجس میں مرد ووٹرز 98 ہزار 145 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 75 ہزار 774 ہے۔

پنجاب اسمبلی کی یہ نشست ن لیگی ایم پی اے چودھری طاہر سندھو کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے یاسر سندھو کی کامیابی پر کہا ہے کہ جماعت اور شیر کا نشان چھین کر بھی حلقہ پی پی 30 میں مسلم لیگ ن کی شاندار فتح کو نہ روکا جا سکا۔ مسلم لیگ (ن) نے قبل از انتخابات دھاندلی کے باوجود کامیابی حاصل کی۔سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیڑ پر اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ آؤ مل کر ‘روک سکو تو روک لو’ کا نعرہ لگائیں۔ ایک اور ٹوئٹ میں تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنی تیزی سے انتقامی عدالت سے نواز شریف کے خلاف فیصلے آ رہے ہیں، اس سے زیادہ تیزی سے عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلے آ رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سابق صدر نواز شریف کی جانب سے ٹکٹ جاری کیے جانے کی وجہ سے یاسر سندھو کو شیرکا نشان نہیں مل سکا اور انہیں آزاد امیدوار کے طور پر پک اپ وین کا انتخابی نشان دیا گیا لیکن اس پر بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG