رسائی کے لنکس

'عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں'


فائل فوٹو

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر ان ہی کی پارٹی کی ایک سابق خاتون رہنما عائشہ گلالئی کی طرف سے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

رکنِ قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے منگل کو عمران خان پر خواتین کے ساتھ غیر شائستہ رویے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

ان کے الزامات پر ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں خاصی بحث جاری ہے جب کہ تحریکِ انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے اس کے پیچھے مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کا ہاتھ ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وہ ایک عرصے سے عمران خان کے مبینہ مشکوک کردار کے بارے میں بات کرتے آ رہے ہیں اور اب تحریکِ انصاف کی خاتون رکن کی طرف سے بھی ایسا ہی بیان ان کے بقول ان کے موقف کی تائید ہے۔

انہوں نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بلیک بیری فون کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

عائشہ گلالئی نے الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان نے انھیں اپنے بلیک بیری فون سے نامناسب پیغامات بھیجے تھے۔

تاہم انھوں نے اس الزام کی نہ تو کوئی تفصیل بتائی اور نہ ہی صحافیوں کے اصرار کے باوجود یہ میسیجز منگل کو اپنی پریس کانفرنس میں دکھائے۔

خاتون رہنما کا استدلال تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی چاہے تو یہ ریکارڈ حاصل کرسکتی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے ان الزامات کی مفصل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

دوسری طرف تحریکِ انصاف نے عائشہ گلالئی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی مفاد کے تحت ان کی قیادت پر یہ الزام عائد کر رہی ہیں۔

جماعت کے ترجمان نعیم الحق نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "اگر کوئی عدالت جانا چاہتا ہے تو ضرور جائے۔ نااہل کرانے کے لیے جانا چاہتا ہے، ضرور جائے۔ ہم ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔"

عائشہ گلالئی کے دعوؤں کے بعد منگل کی شام سے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ان کے حق اور مخالفت میں پیغامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

تحریکِ انصاف کی مختلف خواتین ارکان نے سوشل میڈیا پر وڈیو پیغامات بھی جاری کیے ہیں جن میں انھوں نے عمران خان پر عائد الزامات کو من گھڑت قرار دیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے ایک رہنما فواد چودھری کے مطابق ان کی جماعت نے عائشہ گلالئی کو نوٹس جاری کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کی مبینہ کردار کشی پر معافی مانگیں بصورتِ دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG