رسائی کے لنکس

logo-print

ق لیگ کی ن لیگ کو نہ لیکن پی ٹی آئی کو ہاں


پاکستان مسلم لیگ کیو کے چوہدری برادران عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کو 149 ارکان کی تعداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ پچیس جولائی سنہ دو ہزار اٹھارہ کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کے پاس 129 اور تحریک انصاف کے پاس 123 ارکان ہیں۔ ایسے میں ق مسلم لیگ اور آزاد امیدواروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ق لیگ کے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے حکومت بنانے کے لیے ن لیگ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حمایت کریگی۔

“ہم نے بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ ملاقات میں ان کو یقین دلا دیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ملکر حکومت بنائینگے اور پاکستان کو آگے لے کر چلیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے چار اور قومی اسمبلی کے دو آزاد اراکین نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کر کے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جن میں پی پی 97 ملتان سے سعید اكبر نوانی، پی پی 98 سے امیر محمدحسن خیلی، پی پی 237 سے فدا حسین وٹو اور پی پی 270 سے عبدالحئی دستی شامل ہیں۔ سعید اکبر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق پی ٹی آئی کا منشور عوامی ہے اور عمران خان کی قیادت میں ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے اور انہوں نے یہی سوچ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن بھی صوبہ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نمبر گیم کو پورا کرنے کے لیے آزاد ارکان اور پیپلز پارٹی سے رابطے جاری ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند روز میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کر لی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG