رسائی کے لنکس

logo-print

مردان: اسما قتل کیس میں مرکزی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ


پولیس اہلکار قتل کے ملزم کو صحافیوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

اپنی پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی مردان نے بتایا کہ اسما کو قتل کرنے والے ملزم کی عمر 15 سال ہے اور وہ مقتولہ بچی کا قریبی رشتے دار ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس نے گزشتہ ماہ مردان میں قتل کی جانے والی چار سالہ بچی اسما کے قتل کے مرکزی ملزم سمیت دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بدھ کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مردان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد عالم شینواری نے ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری لیبارٹری رپورٹ میچ ہونے کی تصدیق کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ مردان کے علاقے گوجر گڑھی میں چار سالہ بچی اسما کی لاش گنے کے کھیتوں سے ملی تھی اور طبی تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ بچی کو جنسی زیادتی کی کوشش کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

اپنی پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی مردان نے بتایا کہ اسما کو قتل کرنے والے ملزم کی عمر 15 سال ہے اور وہ مقتولہ بچی کا قریبی رشتے دار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ملزم کے ایک دوست کو بھی تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا ہے جسے ملزم نے واردات سے متعلق سارا قصہ سنایا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق گرفتار ملزم ایک ریستوران میں کام کرتا ہے اور اس نے زیادتی کی کوشش میں ناکامی پر بچی کا گلا دبا کر اسے قتل کیا۔

محمد عالم شینواری نے بتایا کہ اسما کا قاتل جائے واردات پر موجود گنے کے ایک پتے پر پائے جانے والے خون کے دھبے سے ٹریس ہوا جب کہ مقتولہ کے گلے پر اس کے ہاتھ کی انگلیوں کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم نے وقوعہ کے روز تین بجے اسما کو دیکھا تھا اور گھر جانے کا کہا تھا۔ بعد ازاں ملزم گنا دینے کے بہانے اسماء کو کھیتوں میں لے گیا جہاں اس نے بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ بچی کی چیخ و پکار پر ملزم نے گھبرا کر اسے گلا دبا کر اسے قتل کردیا۔

پریس کانفرنس میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ تھا جسے پولیس نے انتہائی احتیاط اور مہارت سے حل کیا۔

انہوں نے کہا کہ ثبوت اور گواہ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو مشکل کا سامنا تھا لیکن اس کے باوجود 25 دن میں قتل کے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

صلاح الدین محسود نے کہا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو معاشرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئی جی پولیس نے پریس کانفرنس میں کوہاٹ میں میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل میں ملوث ملزم کو بھی جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پولیس پوری تندہی سے اس کیس پر کام کر رہی ہے۔

مردان اور کوہاٹ میں پیش آنے والے ان دونوں واقعات کا سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لے رکھا ہے اور منگل کو ان کی سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG