رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس: پولیس افسر اور ان کی خاتون ساتھی قتل


انتہا پسند تنظیم داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی اعماق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم داعش کے طرف سے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ حملہ آور کا تعلق ان کی تنظیم سے ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق پیر کی رات ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار اور ایک خاتون جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، کو فرانس میں چاقو کے وار سے قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے جائے وقوع سے ایک تین سالہ لڑکے کو بچا لیا ہے۔

42 سالہ پولیس کمانڈر کو پیرس سے 55 کلومیٹر مغرب میں مینوویلا شہر میں ان کے گھر کے باہر ہلاک کیا گیا اور بعد ازاں حملہ آور نے گھر میں گھس کر پولیس افسر کی ساتھی کو قتل کر دیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان پیری ہنری برانت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ "یہ بہت بڑا ںقصان ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ "اس پولیس افسر کو ایک شخص نے قتل کیا۔۔۔ (اور) ہمیں ایک خاتون کی نعش بھی ملی ہے۔ حملہ آور جرائم پیشہ شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ شکر ہے ایک چھوٹے لڑکے کو بچا لیا گیا ہے۔ وہ گھر میں موجود تھا۔ اب وہ بالکل خیریت سے ہے"۔

انتہا پسند تنظیم داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی اعماق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم داعش کے طرف سے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ حملہ آور کا تعلق ان کی تنظیم سے ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت 25 سالہ لاروسی ابالا کے نام سے ہوئی ہے جو کہ ماضی میں بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ ان کے بقول اس شخص کو 2013ء میں پاکستان سے جہاد کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

منگل کو علی الصبح صدارتی محل میں اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے "اس گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کی۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس افسوسناک واقعہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا۔

فرانس کے وزیر داخلہ نے واقعے کو "دہشت گردی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال ایک سو سے زائد افراد کو ممکنہ دہشت گردی کے شبے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مشتبہ حملہ آور نے پولیس افسر اور ان کی ساتھی کو قتل کرنے کی واردات کے دوران اس کی وڈیو بھی بنائی اور فیس بک پر اسے جاری بھی کیا۔ یہ فیس بک اکاؤنٹ فی الوقت معطل کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG