رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: گرجا گھروں پر حملے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ


اتوار کو حملے کا نشانہ بننے والا ایک گرجا گھر

اس حملے سے قبل اتوار کو شہر کے تین گرجا گھروں پر خود کش حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں تین گرجا گھروں پر خودکش حملوں کے ایک روز بعد شہر میں پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔

سورابایا پولیس کے ترجمان فرانس برونگ منگیرا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس ہیڈکوارٹر پر پیر کو موٹرسائیکل سوار حملہ آور دھماکہ خیز مواد پھینک کر فرار ہوگئے جس کے نتیجے میں چھ عام شہری اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار افرادپولیس ہیڈکوارٹر پر پہنچے اور اس کے دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں کے نزدیک رکے جس کے فوراً بعد ہی دو دھماکے ہوئے۔

اس حملے سے قبل اتوار کو شہر کے تین گرجا گھروں پر خود کش حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کو حملے کا نشانہ بننے والے ایک گرجا گھر میں آگ بھڑک رہی ہے
اتوار کو حملے کا نشانہ بننے والے ایک گرجا گھر میں آگ بھڑک رہی ہے

پولیس حکام نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرجا گھر حملوں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد ملوث تھے جن میں والدین اور ان کی نو اور 12 سال کی دو بچیاں اور دو بیٹے شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان کے سربراہ نے بارود سے بھری اپنی گاڑی شہر کے ایک مرکزی گرجا گھر سے ٹکرائی۔ واقعے کے چند منٹ بعد ہی اس کی اہلیہ نے اپنی دو بچیوں کے ساتھ ایک دوسرے گرجا پر حملہ کیا۔ تینوں خواتین نے بارودی جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔

اسی خاندان کے 16 اور 18 سالہ بیٹوں نے اپنی موٹر سائیکل ایک تیسرے گرجا کے نزدیک دھماکے سے اڑادی۔

گرجا گھروں پر حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں قبول کرلی ہے۔

تاہم داعش نے اپنے بیان میں حملے کی وجوہات یا حملہ کرنے والے خاندان سے متعلق کچھ نہیں کہا اور دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں تین خودکش بمبار ملوث تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور خاندان شام سے واپس لوٹا تھا۔ انڈونیشین پولیس کے سربراہ ٹیٹو کارناویان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش حملے میں ملوث خاندان کا سربراہ داعش سے منسلک انڈونیشی شدت پسند تنظیم 'جماعۃ انشورۃ الدولہ' کی سورابایا شاخ کا سربراہ تھا۔

پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے سڑک بند کر رکھی ہے
پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے سڑک بند کر رکھی ہے

یہ تنظیم گزشتہ سال بھی انڈونیشیا میں ہونے والے بعض دہشت گردوں حملوں میں ملوث تھی۔

اتوار کے حملوں میں بچوں کے ملوث ہونے کے انکشاف نے انڈونیشیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور آبادی کےا عتبار سے دنیا کے سب سے بڑے اس مسلم ملک میں انتہا پسندی کے رجحانات پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

انڈونیشیا کی آبادی 26 کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ حکام کا کہناہے کہ داعش کے پروپیگنڈے سے انڈونیشی مسلمان بھی متاثر ہوئے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق انڈونیشیا کے 1100 شہری داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے شام جاچکے ہیں۔

اتوار کو ہی ایک دوسرے واقعے میں سورابایا کے نزدیک ایک قصبے سدوآرجو میں ایک گھر میں گھریلو ساختہ بم پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG